ویب ڈیسک:فرانس نے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر سخت پابندیاں عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ نئے قانون کے تحت 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی مرحلہ وار محدود کی جائے گی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پابندی کا نفاذ دو مرحلوں میں ہوگا۔ پہلے مرحلے میں یکم ستمبر سے 15 سال سے کم عمر بچوں کو نئے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ پہلے سے موجود اکاؤنٹس پر بھی جنوری 2027 سے پابندی نافذ کر دی جائے گی۔
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے اس قانون کو بچوں کے تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل دنیا میں کم عمر افراد کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
فرانس کا یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دنیا کے مختلف ممالک بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر سخت قوانین متعارف کرا رہے ہیں۔ برطانیہ اور آسٹریلیا بھی 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی یا سخت ضوابط نافذ کرنے کے اعلانات کر چکے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق برطانیہ میں کم عمر بچوں کی صحت کے تحفظ کے لیے انرجی ڈرنکس کی فروخت پر بھی پابندی عائد کرنے کی تیاریاں جاری ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مختلف ممالک کی جانب سے ایسے اقدامات کا مقصد بچوں کو آن لائن خطرات، نامناسب مواد، سائبر بُلیئنگ اور سوشل میڈیا کے منفی ذہنی اثرات سے محفوظ رکھنا ہے، جبکہ ناقدین کے مطابق ان پابندیوں پر مؤثر عمل درآمد ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔