حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
ایران سے محاذ آرائی امریکا پر بھاری پڑ گئی؟ پینٹاگون نے زخمی فوجیوں کی حیران کن تعداد ظاہر کر دی Home / بین الاقوامی /

ایران سے محاذ آرائی امریکا پر بھاری پڑ گئی؟ پینٹاگون نے زخمی فوجیوں کی حیران کن تعداد ظاہر کر دی

ایڈیٹر - 21/07/2026
ایران سے محاذ آرائی امریکا پر بھاری پڑ گئی؟ پینٹاگون نے زخمی فوجیوں کی حیران کن تعداد ظاہر کر دی

ویب ڈیسک:واشنگٹن سے سامنے آنے والی تازہ معلومات کے مطابق ایران کے ساتھ حالیہ فوجی کشیدگی کے دوران امریکی افواج کو قابلِ ذکر جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع نے پہلی بار تصدیق کی ہے کہ جنگی کارروائیوں کے نتیجے میں بڑی تعداد میں فوجی زخمی ہوئے۔

امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان شان پارنیل نے بتایا کہ سات جولائی سے جاری جھڑپوں کے دوران تقریباً ایک سو امریکی فوجیوں کو مختلف نوعیت کی چوٹیں آئیں۔ ان کے مطابق زخمی ہونے والے زیادہ تر اہلکار علاج مکمل ہونے کے بعد دوبارہ اپنی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں، جبکہ صرف چند فوجی اب بھی طبی نگرانی میں ہیں۔

یہ تفصیلات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکی حکام نے حالیہ ایرانی حملے میں جان سے ہاتھ دھونے والے مزید دو فوجیوں کی شناخت بھی ظاہر کر دی ہے۔

اس سے قبل محکمہ دفاع کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار میں بتایا گیا تھا کہ اٹھائیس فروری کے بعد سے مختلف کارروائیوں کے دوران چودہ امریکی فوجی ہلاک جبکہ چار سو ستائیس زخمی ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ شمالی عراق اور اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر ہونے والے ایرانی حملوں کے بعد ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا امکان موجود ہے۔

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اردن میں حملے کے مقام سے ملنے والے بعض ناقابلِ شناخت انسانی اعضا کا فرانزک معائنہ جاری ہے۔ حکام کا خیال ہے کہ ان شواہد سے ہلاک ہونے والے مزید فوجیوں کی تصدیق ہو سکتی ہے۔

اس سے پہلے امریکا ایران کے حملوں میں تین فوجیوں کی ہلاکت کا اعتراف کر چکا ہے، جبکہ ایک اہلکار اب بھی لاپتا قرار دیا جا رہا ہے۔

گزشتہ روز امریکی فوج نے یہ بھی تصدیق کی تھی کہ اٹھارہ جولائی کو شمالی عراق میں ایک کارروائی کے دوران ایک امریکی فوجی اہلکار مارا گیا۔

اس سے چند روز قبل اردن میں ایرانی میزائل حملے کے نتیجے میں دو امریکی فوجی ہلاک، ایک لاپتا اور چار دیگر اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

تازہ اعداد و شمار نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی مستقبل میں خطے کو کس حد تک مزید عدم استحکام کی طرف لے جا سکتی ہے۔