ویب ڈیسک: ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوب مغربی شہر اہواز کی فضاؤں میں پرواز کرنے والے امریکا کے ایک جدید بغیر پائلٹ جنگی طیارے کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے تباہ کر دیا گیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی حالیہ امریکی حملوں کے جواب میں کی گئی۔
پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اہواز کے قریب پرواز کرنے والے امریکی ڈرون کو جدید دفاعی نظام نے کامیابی سے نشانہ بنایا۔ ایرانی مؤقف کے مطابق امریکا کی جانب سے شہری علاقوں اور بنیادی تنصیبات پر حملوں کے بعد یہ جوابی کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ آٹھ روز کے دوران یہ چوتھا جدید امریکی ڈرون ہے جسے مار گرانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ ڈرون نگرانی کے ساتھ ساتھ حملوں کے لیے بھی استعمال کیے جاتے ہیں اور جدید ترین بغیر پائلٹ فضائی نظام کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔
ایران نے مزید دعویٰ کیا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک ایک سو پچاس سے زائد امریکی ڈرون تباہ کیے جا چکے ہیں، جن میں تقریباً تیس جدید جنگی ڈرون بھی شامل ہیں۔
ایرانی ذرائع کے مطابق ایک بین الاقوامی نشریاتی ادارے کی گزشتہ برس کی رپورٹ میں ایسے ہر جدید امریکی ڈرون کی مالیت تقریباً تین کروڑ چالیس لاکھ امریکی ڈالر بتائی گئی تھی۔ اگر ایران کے دعووں کو درست مانا جائے تو صرف ڈرونز کی تباہی سے امریکا کو ایک ارب ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ادھر خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی کارروائیاں جاری رہیں تو ایران پہلے سے زیادہ سخت اور مؤثر جواب دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی افواج دشمن کو مزید بھاری نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
دوسری جانب ایرانی فوج نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن تھنڈربولٹ کے سولہویں اور سترہویں مرحلے کے دوران کویت میں موجود امریکی فوجی مراکز کو خودکش ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ کیمپ اُدیری اور علی السالم فضائی اڈے پر اسلحہ گوداموں، فضائی نگرانی کے نظام اور دیگر فوجی تنصیبات کو ہدف بنایا گیا۔
ایرانی فوج کے مطابق کیمپ اُدیری خطے میں امریکی افواج کی معاونت اور لاجسٹک سرگرمیوں کا اہم مرکز ہے، جبکہ علی السالم فضائی اڈہ فوجی نقل و حرکت کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
اسی دوران کویتی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ملک میں بجلی پیدا کرنے اور سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے والے ایک اہم پلانٹ پر دو روز کے اندر دوسری مرتبہ حملہ ہوا، جس کے نتیجے میں پلانٹ کے مختلف حصوں میں آگ بھڑک اٹھی اور متعدد بجلی پیدا کرنے والے یونٹس متاثر ہوئے۔
بحرین کی فوج نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے داغے گئے متعدد میزائلوں اور ڈرونز کو فضا ہی میں ناکام بنا دیا۔
ادھر ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم نے الزام عائد کیا ہے کہ خوزستان صوبے میں زیرِ تعمیر دارخوین جوہری بجلی گھر پر بھی حملے کیے گئے، تاہم منصوبے سے متعلق مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
دوسری جانب امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ اس سے قبل اردن میں واقع موفق السلطی فضائی اڈے پر ایرانی حملے میں اپنے دو فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کر چکی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق موجودہ کشیدگی کے آغاز سے اب تک ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 16 ہو گئی ہے جبکہ 420 سے زائد اہلکار زخمی ہو چکے ہیں۔
ایران اور امریکا کے درمیان جاری اس فوجی کشیدگی کے باعث پورے خطے میں صورتحال بدستور انتہائی کشیدہ ہے، جبکہ دونوں جانب سے جوابی کارروائیوں اور سخت بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔