ویب ڈیسک:مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے ایک اور اہم موڑ لے لیا ہے۔ یمن کی حوثی تحریک نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد عالمی سطح پر تیل کی ترسیل اور توانائی کی منڈی کے بارے میں نئی تشویش پیدا ہو گئی ہے۔
تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ مجوزہ بحری ناکہ بندی کس انداز میں نافذ کی جائے گی اور آیا اس کے دوران تجارتی جہازوں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا یا نہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بحرِ احمر میں جہاز رانی متاثر ہوئی تو عالمی سپلائی چین اور تیل کی ترسیل کو شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے۔
یمن کی جغرافیائی حیثیت اس معاملے کو مزید اہم بناتی ہے کیونکہ یہ ملک باب المندب کے قریب واقع ہے، جو دنیا کی مصروف ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ آبنائے ہرمز میں جاری رکاوٹوں کے بعد خلیجی ممالک نے بحرِ احمر کو تیل برآمد کرنے کے متبادل راستے کے طور پر زیادہ استعمال کرنا شروع کر دیا تھا۔ ایسی صورتحال میں اگر باب المندب بھی متاثر ہوتا ہے تو خطے کے دونوں بڑے بحری راستے بیک وقت دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی مشکلات کے بعد سعودی عرب نے اپنی خام تیل کی تقریباً ستر فیصد برآمدات بحرِ احمر کے ساحل پر واقع ینبع بندرگاہ کے ذریعے منتقل کرنا شروع کر دی ہیں۔ یہاں سے یورپ جانے والے بحری جہاز نہرِ سویز کے راستے سفر کرتے ہیں، جبکہ ایشیائی ممالک کے لیے روانہ ہونے والے جہاز باب المندب سے گزرتے ہیں۔
اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ جون کے دوران باب المندب سے یومیہ تقریباً چوہتر لاکھ بیرل تیل کی ترسیل ہوئی، جو دنیا کی مجموعی یومیہ پیداوار کا لگ بھگ سات فیصد بنتی ہے۔ اسی وجہ سے اس بحری راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی منڈی پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔
حوثی تحریک کا آغاز انیس سو نوے کی دہائی میں ہوا تھا اور وہ گزشتہ کئی برسوں سے یمن میں سعودی حمایت یافتہ حکومت کے خلاف سرگرم ہے۔ دونوں فریقوں کے درمیان دو ہزار بائیس میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا، تاہم حالیہ دنوں صنعاء ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے کے بعد کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
حوثیوں نے اس حملے کی ذمہ داری سعودی عرب پر عائد کرتے ہوئے جواب میں ابہا ایئرپورٹ پر میزائل حملے کیے۔
حوثی سیاسی دفتر کے سینئر رہنما محمد الفرح نے ایرانی نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں خبردار کیا تھا کہ اگر حالات مزید بگڑتے ہیں تو باب المندب سے گزرنے والا بحری راستہ بند کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکا مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ ایران حوثیوں کو مالی اور عسکری مدد فراہم کرتا ہے، جبکہ حوثی قیادت ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے خود کو ایک آزاد مزاحمتی تحریک قرار دیتی ہے۔
اس سے قبل مارچ کے آغاز میں حوثی رہنما عبدالملک الحوثی نے کہا تھا کہ ضرورت پڑنے پر ان کی جماعت ہر ممکن اقدام کے لیے تیار ہے۔ بعد ازاں جون میں ایرانی قدس فورس کے سربراہ اسماعیل قاآنی نے بھی عندیہ دیا تھا کہ بحرِ احمر میں جہاز رانی متاثر ہونے کا امکان موجود ہے۔
تازہ اعلان کے بعد عالمی مبصرین خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اگر باب المندب میں کشیدگی بڑھتی ہے تو نہ صرف عالمی توانائی کی منڈی مزید دباؤ میں آ جائے گی بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہو سکتا ہے۔