ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف جاری احتجاجی تحریک کے تحت ضلع باجوڑ میں مکمل شٹر بند ہڑتال کی گئی، جس کے باعث خار سمیت مختلف شہروں اور قصبوں کے تمام بڑے بازار، دکانیں اور کاروباری مراکز بند رہے جبکہ تجارتی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل ہو گئیں۔
تاجر برادری نے وفاقی حکومت کے ٹیکس اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے احتجاجاً کاروبار بند رکھا۔ ہڑتال کے دوران خار بازار اور دیگر اہم تجارتی مراکز میں غیر معمولی خاموشی دیکھی گئی، جبکہ شہریوں کو خرید و فروخت اور روزمرہ ضروریات کی اشیا کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
تاجر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن کی خصوصی حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے ٹیکسوں کا نفاذ ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے اور عوام و تاجروں کے تحفظات دور کرے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی اور آئندہ کے لائحۂ عمل کا اعلان بھی کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ ملاکنڈ ڈویژن بھر میں دی گئی احتجاجی کال پر باجوڑ کے تاجروں نے بھرپور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مکمل شٹر بند ہڑتال کی، جس سے کاروباری سرگرمیاں دن بھر شدید متاثر رہیں۔