حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
عدالتی نظام میں بڑی پیش رفت، صرف چھ ماہ میں انتیس لاکھ سے زائد مقدمات نمٹا دیے گئے Home / پاکستان /

عدالتی نظام میں بڑی پیش رفت، صرف چھ ماہ میں انتیس لاکھ سے زائد مقدمات نمٹا دیے گئے

ایڈیٹر - 21/07/2026
عدالتی نظام میں بڑی پیش رفت، صرف چھ ماہ میں انتیس لاکھ سے زائد مقدمات نمٹا دیے گئے

ویب ڈیسک:پاکستان کے عدالتی نظام کی کارکردگی میں نمایاں بہتری سامنے آئی ہے، جہاں رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران لاکھوں مقدمات کے فیصلے کرتے ہوئے زیر التوا کیسز کی تعداد میں بھی خاطر خواہ کمی لائی گئی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یکم جنوری سے تیس جون دو ہزار پچیس کے دوران ملک بھر کی عدالتوں میں انتیس لاکھ سے زائد مقدمات کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ اسی عرصے میں نئے مقدمات بھی بڑی تعداد میں درج ہوئے۔ اس کے باوجود مجموعی طور پر زیر التوا مقدمات میں ایک لاکھ سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی، جو عدالتی نظام کی بہتر کارکردگی کی عکاسی کرتی ہے۔

قانون و انصاف کمیشن پاکستان کے اعداد و شمار پر مبنی رپورٹ کے مطابق سال کے آغاز پر ملک بھر میں تئیس لاکھ اکہتر ہزار سے زائد مقدمات زیر التوا تھے۔ چھ ماہ کے دوران اٹھائیس لاکھ سے زیادہ نئے مقدمات عدالتوں میں دائر ہوئے، جبکہ انتیس لاکھ سے زائد مقدمات نمٹائے گئے، جس کے بعد زیر التوا مقدمات کی تعداد کم ہو کر بائیس لاکھ ستر ہزار سے کچھ زائد رہ گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زیر التوا مقدمات میں کمی کی بڑی وجہ سپریم کورٹ، وفاقی شرعی عدالت، تمام ہائی کورٹس اور پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور اسلام آباد کی ضلعی عدالتوں کی بہتر کارکردگی رہی۔ تاہم بلوچستان کی ہائی کورٹ اور ضلعی عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی تعداد میں اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق اعلیٰ عدلیہ نے سال کا آغاز چار لاکھ سے زائد زیر التوا مقدمات کے ساتھ کیا تھا، لیکن پہلے چھ ماہ کے دوران ایک لاکھ سے زیادہ نئے مقدمات درج ہونے کے باوجود تقریباً ایک لاکھ اڑتالیس ہزار مقدمات نمٹا دیے گئے، جس کے نتیجے میں زیر التوا کیسز کی مجموعی تعداد میں نمایاں کمی آئی۔

سپریم کورٹ نے بھی اپنی کارکردگی بہتر بناتے ہوئے زیر التوا مقدمات کی تعداد میں کمی کی۔ اس عرصے میں عدالتِ عظمیٰ میں ہزاروں نئے مقدمات دائر ہوئے، جبکہ ان سے زیادہ مقدمات کے فیصلے کیے گئے، جس سے زیر سماعت مقدمات کا بوجھ کم ہوا۔

وفاقی شرعی عدالت نے بھی اپنے زیر التوا مقدمات میں کمی لاتے ہوئے نئے مقدمات کے مقابلے میں زیادہ کیسز نمٹائے۔ اسی طرح لاہور ہائی کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ نے بھی بڑی تعداد میں مقدمات کا فیصلہ کر کے زیر التوا کیسز میں نمایاں کمی کی۔

قانونی ماہرین کے مطابق مقدمات کے جلد فیصلوں سے نہ صرف عدالتی نظام پر عوام کا اعتماد مضبوط ہوگا بلکہ انصاف کی بروقت فراہمی میں بھی بہتری آئے گی، تاہم اس رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے عدالتی اصلاحات اور جدید نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت برقرار ہے۔