پشاور/لاہور: خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں مانسون کی طوفانی بارشیں، ضلع خیبر میں 6 ہلاکتیں، متعدد شاہراہیں بند
خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع، گلگت بلتستان اور پنجاب میں حالیہ طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلوں نے شدید تباہی مچائی ہے، جس کے نتیجے میں ضلع خیبر میں اب تک 6 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ریسکیو 1122 کے مطابق، سب سے زیادہ جانی نقصان لنڈی کوتل میں ہوا جہاں 4 افراد سیلابی ریلے کی نذر ہوئے، جبکہ جمرود میں بھی 2 افراد کے بہہ جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔ متاثرہ علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر ریلیف اور سرچ آپریشن تاحال جاری ہے۔
ضلع خیبر میں ایک افسوسناک واقعے کے دوران پاک افغان سرحد کی طرف جانے والے ایک افغان خاندان کی گاڑی طورخم شاہراہ پر سیلابی ریلے کی زد میں آ گئی۔ ریسکیو حکام کے مطابق گاڑی میں خواتین اور بچوں سمیت کل 16 افراد سوار تھے، جن میں سے 13 افراد کو مقامی انتظامیہ اور امدادی ٹیموں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بحفاظت نکال لیا، تاہم 3 افراد جاں بحق ہو گئے جن کی لاشیں تحویل میں لے لی گئی ہیں۔ شدید سیلابی صورتحال کے باعث پاک افغان شاہراہ پر پھنسی 100 سے زائد گاڑیوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اپر دیر میں ہونے والی موسلادھار بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی آ چکی ہے اور دریائے پنچکوڑہ میں پانی کے بہاؤ میں خطرناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سیاحتی مقام وادی کاغان میں شدید بارش کے بعد مختلف مقامات پر مڈ سلائیڈنگ (مٹی کے تودے گرنے) کا سلسلہ شروع ہوا، جس سے شاہراہِ کاغان پر ٹریفک معطل ہو گئی، جبکہ پانی کے شدید کٹاؤ کے باعث جھیل سیف الملوک روڈ پر بھی گاڑیوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
گلگت بلتستان کا ضلع استور بھی ان طوفانی بارشوں سے شدید متاثر ہوا ہے، جہاں سیلابی ریلوں نے متعدد دیہات میں رہائشی مکانات، کھڑی فصلوں اور رابطہ سڑکوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ادھر پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں بھی کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش کا سلسلہ دیکھنے میں آیا، جس سے گرمی اور حبس کا زور تو ٹوٹ گیا، تاہم نشیبی علاقوں اور اہم سڑکوں پر پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمد و رفت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے الرٹ جاری کر دیا ہے۔