کراچی، اسلام آباد ، ہفتہ، 18 جولائی 2026: معروف کرکٹر ثقلین مشتاق کے نام اور چیئرمین شپ کے تحت متعارف کرائے گئے رہائشی منصوبے ثقلین مشتاق ہائٹس کے متاثرین نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان کی رقم فوری طور پر واپس کی جائے یا منصوبے کی تکمیل اور اپارٹمنٹس کا قبضہ دینے کے لیے ایک تحریری، پابند اور مقررہ مدت پر مشتمل منصوبہ فراہم کیا جائے۔ متاثرین کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کی بکنگ کا آغاز 2016 کے آخر اور 2017 کے اوائل میں کیا گیا تھا، مگر تقریباً ایک دہائی گزرنے کے باوجود اپارٹمنٹس کا قبضہ نہیں دیا گیا، حتیٰ کہ گرے اسٹرکچر بھی مکمل نہیں ہو سکا، جبکہ خریداروں کو اب تک قبضہ ملنے کی کوئی قابلِ اعتماد امید نظر نہیں آتی۔
متاثرین نے بتایا کے یہ منصوبہ بحریہ ٹاؤن فیز 8، راولپنڈی میں 50 کنال پر مشتمل ایک لو رائز فیملی رہائشی منصوبے کے طور پر مارکیٹ کیا گیا تھا، جس میں 7 گراؤنڈ پلس فور منزلہ ٹاورز، 550 اپارٹمنٹس، پینٹ ہاؤسز اور ڈبل بیسمنٹ پارکنگ شامل تھی، جبکہ ادائیگی کے لیے ساڑھے تین سال کی اقساط کا منصوبہ دیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ خالد اعوان اور خالد اعوان ایسوسی ایٹس بھی منصوبے کی فروخت اور مارکیٹنگ سے براہِ راست وابستہ تھے۔ متاثرین کے مطابق ثقلین مشتاق اور خالد اعوان نے مشترکہ طور پر اس منصوبے کا آغاز کیا، اس کا انتظام سنبھالا، اور خریداروں سے کیے گئے تمام وعدوں کے لیے دونوں ذمہ دار تھے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے متاثرین نے منصوبے کا اصل بروشر میڈیا کے سامنے پیش کیا، جس میں ثقلین مشتاق کا بطور چیئرمین دستخط شدہ پیغام موجود تھا۔ اس پیغام میں شفافیت، دیانت داری، عزم، معیار اور صارفین سے کیے گئے ہر وعدے کو پورا کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔ انہوں نے بکنگ اور ادائیگیوں کا ریکارڈ، قبضے سے متعلق تحریری یقین دہانیاں، خط و کتابت اور منصوبے کی حالیہ تصاویر و ویڈیوز بھی میڈیا کے سامنے پیش کیں۔ جن میں منصوبے کی عدم تکمیل واضح تھی۔
دستاویزات کے مطابق منصوبے کی اصل متوقع تکمیل جون 2020 میں ہونا تھی۔ 16 جنوری 2019 کو جاری کیے گئے ایک خط میں کہا گیا تھا کہ ٹاور 7 کے اپارٹمنٹ کا قبضہ 30 جون 2021 تک یا اس سے قبل خریدار کے حوالے کر دیا جائے گا۔ اس خط میں یہ بھی تحریری یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ اگر مقررہ مدت تک قبضہ فراہم نہ کیا جا سکا تو خریدار کو 30 روپے فی مربع فٹ ماہانہ کے حساب سے کرایہ بطور معاوضہ ادا کیا جائے گا۔
متاثرین کا کہنا تھا کہ ٹاور 4، ٹاور 5 اور ٹاور 7 کے خریداروں سے بکنگ اور اقساط کی مد میں رقوم وصول کی گئیں، لیکن تعمیراتی کام اس کے مطابق آگے نہیں بڑھا۔ ان کے مطابق ٹاور 4 اور ٹاور 5 پر تعمیراتی کام شروع ہی نہیں کیا گیا، جبکہ ٹاور 7 اب بھی صرف جزوی طور پر تعمیر ہوا ہے اور آج تک مکمل گرے اسٹرکچر کے مرحلے تک نہیں پہنچ سکا۔
متاثرین کا کہنا تھا کہ کم از کم 2020 سے خریدار مسلسل ملاقاتوں، فون کالز، واٹس ایپ پیغامات اور تحریری درخواستوں کے ذریعے تعمیراتی شیڈول، نظرثانی شدہ ٹائم لائن اور باضابطہ جواب طلب کرتے رہے۔ بعد ازاں SMH کی جانب سے جاری خطوط میں منصوبے میں تاخیر، رابطے میں موجود خلا، بڑھتی ہوئی لاگت اور تعمیراتی و مالیاتی روڈ میپ پر نظرثانی کی ضرورت کو تسلیم کیا گیا، جسے انتظامیہ کے مطابق چار سے چھ ہفتوں کے اندر شیئر کیا جانا تھا۔ تاہم متاثرین کا کہنا ہے کہ اس کے بعد نہ کوئی تسلی بخش روڈ میپ سامنے آیا اور نہ ہی اس پر کوئی نمایاں عمل درآمد ہوا۔
متاثرین نے مزید کہا کہ جنوری 2026 میں انہیں معلوم ہوا کہ اسی منصوبے کو موجودہ ثقلین مشتاق ہائٹس کے خریداروں کو اطلاع دیے بغیر "المقیت ہائٹس" کے نام سے مارکیٹ کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ٹاور 7 کی پانچویں اور چھٹی منزل کے لیے تقریباً ساڑھے تین سالہ نئے شیڈول کے تحت نئی بکنگ کی جا رہی ہے، جبکہ اصل خریدار تقریباً دس سال سے انتظار کر رہے ہیں۔
متاثرین نے ٹاور 4 کو "Not Launched" ظاہر کیے جانے پر بھی اعتراض کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بکنگ معاہدے، خریداروں کا ریکارڈ اور ادائیگیوں کی دستاویزات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ٹاور 4 کی بکنگ کی جا چکی تھی اور اس کے خریدار موجود تھے۔ ان کے مطابق ٹاور 4 کو "Not Launched" قرار دینا دستیاب دستاویزی ریکارڈ کے منافی ہے۔
متاثرین نے ثقلین مشتاق، خالد اعوان اور ثقلین مشتاق ہائٹس کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے تحریری طور پر واضح مؤقف پیش کریں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یا تو منصوبہ اصل وعدے کے مطابق مکمل کر کے اپارٹمنٹس کا قبضہ دیا جائے، یا پھر موجودہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق ان کی رقم فوری طور پر واپس کی جائے ۔