ویب ڈیسک: وفاقی حکومت کی جانب سے مالاکنڈ ڈویژن میں ٹیکسوں کے نفاذ کے فیصلے کے خلاف احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے۔ تاجر برادری، چیمبر آف کامرس اور مختلف تنظیموں نے اکیس جولائی کو پورے مالاکنڈ ڈویژن میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے تمام کاروباری مراکز بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سوات میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تاجر رہنماؤں اور ایکشن کمیٹی کے اراکین نے کہا کہ ہڑتال کے دوران تمام بازار، دکانیں، تجارتی مراکز اور بینک مکمل طور پر بند رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ احتجاج خطے میں نئے ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف ریکارڈ کرایا جا رہا ہے۔
تاجر برادری کے صدر عبد الرحیم نے خبردار کیا کہ اگر وفاقی حکومت نے مطالبات منظور نہ کیے تو احتجاج مزید شدت اختیار کرے گا اور آئندہ مرحلے میں پہیہ جام ہڑتال سمیت دیگر سخت اقدامات بھی اختیار کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ مالاکنڈ ڈویژن میں ٹیکسوں کے نفاذ کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے اور عوام کو اضافی مالی بوجھ سے بچایا جائے۔
پریس کانفرنس کے دوران تاجر رہنماؤں نے مالاکنڈ ڈویژن کی سابقہ خصوصی حیثیت بحال کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے کے مخصوص حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹیکس پالیسی مرتب کی جائے اور مقامی آبادی و کاروباری طبقے کے تحفظات کو سنجیدگی سے سنا جائے۔
ادھر مالاکنڈ ڈویژن میں ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف سیاسی جماعتوں، تاجر تنظیموں اور مختلف عوامی حلقوں کی جانب سے بھی مسلسل تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ احتجاجی سرگرمیوں میں روز بروز تیزی دیکھی جا رہی ہے۔