ویب ڈیسک: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ضم شدہ اضلاع میں وفاقی ٹیکسوں کے نفاذ کا فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو صوبہ بھرپور ردعمل دے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر عوامی مفادات کا ہر قیمت پر دفاع کیا جائے گا۔
وفاقی ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف منعقدہ جرگے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے ضم اضلاع میں کسی بھی قسم کا صوبائی ٹیکس عائد نہیں کیا، جبکہ ملاکنڈ ڈویژن میں خدمات پر عائد سیلز ٹیکس واپس لینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے صوبے کے حقوق اور عوامی مسائل پر یکجہتی کا اظہار کرنے پر تمام سیاسی جماعتوں اور مختلف مکاتب فکر کے رہنماؤں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مفاد کے معاملات پر صوبے میں مثبت سیاسی ماحول فروغ پا رہا ہے اور تمام طبقات ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو رہے ہیں۔
سہیل آفریدی نے بتایا کہ وفاقی حکومت سے مذاکرات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی وفد تشکیل دیا جائے گا تاکہ ضم اضلاع میں ٹیکسوں کے نفاذ کے معاملے پر صوبے کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کیا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر وفاق نے اپنا فیصلہ برقرار رکھا تو اس کے خلاف سخت ردعمل دیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت کی اولین ترجیح عوامی مفادات کا تحفظ ہے اور ہر فیصلہ عوام کی خواہشات اور ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔
صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے خیبرپختونخوا حکومت نے صوبائی ایکشن پلان تیار کیا ہے۔ ان کے مطابق اگر اس منصوبے پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے تو چند ماہ کے اندر امن کی صورتحال میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
انہوں نے مزید اعلان کیا کہ امن و امان کے معاملات پر الگ سے ایک خصوصی جرگہ بھی منعقد کیا جائے گا تاکہ تمام متعلقہ فریقین کی مشاورت سے مؤثر حکمت عملی مرتب کی جا سکے۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے مالی حقوق کے تحفظ کے لیے اسلام آباد میں بھی ایک بڑا جرگہ بلایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی ذاتی مفاد کے بجائے عوامی مفاد کو مقدم رکھتے ہیں اور ان کے تمام فیصلوں کا محور عوام ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اقتدار عوام کی امانت ہے، اس لیے عوام ہی ان کے فیصلوں کے اصل نگہبان ہیں۔