ویب ڈیسک: اسلحہ لائسنسوں کی کمپیوٹرائزیشن کے عمل سے متعلق آڈٹ رپورٹ میں سنگین بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جس میں ہزاروں مشکوک اور اضافی کمپیوٹرائزڈ اسلحہ لائسنس سامنے آنے کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے اسلحہ لائسنسوں اور کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ کے درمیان نمایاں فرق پایا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مجموعی طور پر نو ہزار دو سو اکانوے اضافی مشکوک اسلحہ لائسنسوں کا سراغ ملا، جن کی تفصیلات جاری شدہ سرکاری ریکارڈ سے مطابقت نہیں رکھتیں۔
دستاویز کے مطابق ممنوعہ بور کے چوالیس ہزار دو سو پچاس اسلحہ لائسنس کمپیوٹرائز کیے گئے، جبکہ وزارتِ داخلہ کے ریکارڈ کے مطابق ایسے لائسنسوں کی اصل تعداد چھتیس ہزار چار سو ستانوے تھی، جس کے باعث ریکارڈ میں واضح فرق سامنے آیا۔
رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا کہ ایک لاکھ چھیاسی ہزار سے زائد اسلحہ لائسنس کمپیوٹرائز کیے گئے، جن میں سے بعد ازاں دس ہزار چار سو چونسٹھ لائسنس جعلی قرار دیے گئے۔ اسی طرح ممنوعہ بور کے لائسنسوں کے ریکارڈ میں سات ہزار سات سو ترپن اضافی اندراجات کی بھی نشاندہی کی گئی۔
آڈٹ حکام نے اسلحہ لائسنسوں کے ریکارڈ میں پائی جانے والی بے ضابطگیوں کو سنگین قرار دیتے ہوئے ذمہ دار افراد کے تعین اور کمپیوٹرائزیشن کے پورے عمل کی شفاف تحقیقات کی سفارش کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق متعلقہ انتظامیہ نے آڈٹ اعتراضات کو تسلیم کرتے ہوئے معاملے کی مکمل چھان بین اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی ضرورت سے اتفاق کیا ہے۔ اس سلسلے میں آئندہ پیش رفت تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آنے کا امکان ہے۔