کراچی/لاہور (معاشی رپورٹر، حسبان میڈیا)
ایران اور امریکا کے درمیان جاری حالیہ شدید کشیدگی اور فوجی تناؤ کے باوجود پاکستان کی اوپن کرنسی مارکیٹ میں ایرانی ریال کی خرید و فروخت کا سلسلہ بلاتعطل جاری ہے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق، خطے کی غیر یقینی صورتحال کے باوجود مقامی سرمایہ کار اور خریدار مستقبل میں تہران پر عائد پابندیوں میں ممکنہ نرمی اور ایرانی کرنسی کی قدر میں متوقع اضافے کے پیشِ نظر ریال کی خریداری میں غیر معمولی دلچسپی لے رہے ہیں۔
سینٹرل بینک آف ایران (CBI) کی جانب سے جاری کردہ حالیہ سرکاری شرح مبادلہ کے مطابق، ایک امریکی ڈالر کی سرکاری قیمت معمولی اضافے کے ساتھ 13 لاکھ 59 ہزار 712 ایرانی ریال ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ ایران کے آزاد مارکیٹ (SANA) ایکسچینج سسٹم پر ڈالر 14 لاکھ 96... اور یورو 17 لاکھ 6 ہزار سے زائد ریال میں ٹریڈ ہو رہا ہے۔ تاہم، تہران کی اصل بلیک مارکیٹ میں ڈالر کے نرخ 18 لاکھ 10 ہزار سے 18 لاکھ 40 ہزار ریال کی ریکارڈ سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ پاکستان کی مقامی اوپن مارکیٹ کی بات کی جائے تو یہاں 100 پاکستانی روپے کی مالیت 4 لاکھ 89... ایرانی ریال بنتی ہے، جس کے تحت ایک کروڑ ایرانی ریال کا پورا پیکٹ محض 6 ہزار سے 7... پاکستانی روپے میں باآسانی فروخت ہو رہا ہے۔ مڈ مارکیٹ انڈیکس کے مطابق اس وقت ایک پاکستانی روپیہ تقریباً 4 ہزار 950 سے 4 ہزار 956 ایرانی ریال کے مساوی ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخوں اور اوپن مارکیٹ کے داموں میں پایا جانے والا یہ ہولناک فرق ایران پر عائد بین الاقوامی اقتصادی پابندیوں اور تجارتی راستوں میں رکاوٹوں کا واضح نتیجہ ہے۔ ماہرینِ معیشت نے مقامی سرمایہ کاروں کو خبردار کیا ہے کہ موجودہ جنگی حالات اور شدید اتار چڑھاؤ کے دوران اوپن مارکیٹ سے بھاری قیمت پر ایرانی ریال خریدنا انتہائی خطرناک اور جوئے کے مترادف ہو سکتا ہے۔ کرنسی ڈیلرز نے بھی مشورہ دیا ہے کہ چونکہ زرمبادلہ کے نرخ عالمی سیاسی حالات اور طلب و رسد کے مطابق روزانہ بدلتے ہیں، اس لیے شہریوں کو کسی بھی قسم کے بڑے مالیاتی لین دین سے قبل مارکیٹ کے مجموعی رجحانات کی مکمل تصدیق کر لینی چاہیے۔