حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
امریکا کا ایران پر حملے، درجنوں عام شہریوں سمیت 7 فوجیوں کی جاں بحق ہونے کی اطلاعات Home / بین الاقوامی /

امریکا کا ایران پر حملے، درجنوں عام شہریوں سمیت 7 فوجیوں کی جاں بحق ہونے کی اطلاعات

ایڈیٹر - 15/07/2026
امریکا کا ایران پر حملے، درجنوں عام شہریوں سمیت 7 فوجیوں کی  جاں بحق ہونے کی اطلاعات

ویب ڈیسک : امریکا اور ایران کے درمیان جاری تازہ کشیدگی پانچویں روز میں داخل ہو گئی ہے، جہاں دونوں ممالک کے درمیان فوجی کارروائیوں میں مزید شدت آنے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی ایران میں امریکی حملوں کے نتیجے میں 30 سے زائد عام شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔

ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم "ایکس" پر جاری بیان میں جانی نقصان کی تصدیق کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ تعزیت کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مشکل وقت میں عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور جنوبی ایران ملک کے لیے انتہائی اہم حیثیت رکھتا ہے۔

دوسری جانب ایرانی فوج نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ جنوب مشرقی ایران کے علاقے میں واقع ایران شہر کے بمپور گیریژن پر امریکی میزائل حملوں کے نتیجے میں سات ایرانی فوجی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

ایرانی فوج نے اس کارروائی کو جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حملے کا جواب مناسب وقت پر دیا جائے گا۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی افواج نے بمپور کی فوجی تنصیبات کو 13 میزائلوں سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 388ویں بریگیڈ کے سات اہلکار جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔

ایرانی فوج کا مؤقف ہے کہ دفاعی اقدامات کے باعث نقصان کو محدود رکھنے میں مدد ملی، تاہم اس کے مطابق حملوں کا مقصد فوجی تنصیبات کے علاوہ رہائشی علاقوں اور دیگر مقامات کو بھی نشانہ بنانا تھا۔

ایران کی وزارت صحت کے ترجمان حسین کرمانپور نے بھی امریکی حملوں میں بڑے پیمانے پر زخمیوں کی اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ 260 سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق 222 زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے بعد اسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا، جبکہ زخمیوں میں تین کم عمر بچے بھی شامل ہیں۔

حسین کرمانپور نے مزید بتایا کہ حالیہ حملوں میں کم از کم دو افراد بھی جاں بحق ہوئے ہیں، تاہم مختلف علاقوں سے آنے والی اطلاعات کے مطابق متاثرین کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ ایرانی بندرگاہوں پر بحری پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خطے میں امن و سلامتی کی صورتحال پر شدید خدشات پیدا کر دیے ہیں۔