پشاور: حکومت خیبر پختونخوا نے مالی سال 2026-27 کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) میں ضم شدہ اضلاع کے کھیلوں کے شعبے کے لیے 4 نئے ترقیاتی منصوبے شامل کیے ہیں۔ ان منصوبوں کے لیے رواں مالی سال میں 7 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مجموعی تخمینہ لاگت 390 کروڑ روپے ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق سب سے بڑی اسکیم ضلع مہمند اور اپر جنوبی وزیرستان میں ضلعی اسپورٹس کمپلیکسز کی تعمیر ہے، جس کی مجموعی لاگت 200 کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے۔ تاہم، رواں مالی سال کے لیے اس منصوبے کے آغاز پر صرف 1 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ 199 کروڑ روپے مالیت کے کام باقی ہیں۔
اسی طرح ضم شدہ اضلاع میں کھیلوں کے مقابلوں کے انعقاد کے لیے 2 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس منصوبے کی مجموعی لاگت 20 کروڑ روپے ہے۔
دستاویزات کے مطابق ضلع خیبر میں کیٹیگری "سی" (Category-C) کھیلوں کی سہولیات کے قیام کے منصوبے کے لیے 4 کروڑ 60 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں، جبکہ اس منصوبے کی مجموعی لاگت 150 کروڑ روپے ہے۔
ایک اور نئے منصوبے کے تحت ضم شدہ اضلاع کے سرکاری اسکولوں میں کھیلوں کی سہولیات اور کھیل کے میدان قائم کرنے کے لیے رواں مالی سال میں صرف ایک ہزار روپے کی علامتی رقم (0.001 ملین روپے) مختص کی گئی ہے، جبکہ منصوبے کی مجموعی لاگت 20 کروڑ روپے ہے۔
سالانہ ترقیاتی پروگرام کے مطابق ان چاروں نئے منصوبوں کی مجموعی لاگت 390 کروڑ روپے ہے، جبکہ رواں مالی سال میں صرف 7 کروڑ 60 لاکھ ایک ہزار روپے مختص کیے گئے ہیں، جو کل لاگت کا تقریباً 1.95 فیصد بنتا ہے۔
دستاویز کے مطابق اگر ضم شدہ اضلاع کے کھیلوں کے شعبے کے جاری اور نئے منصوبوں کو یکجا کیا جائے تو مجموعی طور پر 7 منصوبے شامل ہیں، جن کی کل لاگت 535 کروڑ 99 لاکھ ایک ہزار روپے ہے، جبکہ مالی سال 2026-27 کے لیے مجموعی طور پر 26 کروڑ 21 لاکھ 69 ہزار روپے مختص کیے گئے ہیں۔