ویب ڈیسک: امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد کو مبینہ طور پر اسرائیل میں تیار کیے گئے سیاسی تبدیلی کے منصوبے کے ایک ممکنہ کردار کے طور پر دیکھا گیا، جبکہ رپورٹ میں ان کے اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے بعض اعلیٰ حکام سے رابطوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں امریکی حکام اور دیگر ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل کئی برسوں سے ایران میں سیاسی تبدیلی کے امکانات پر کام کر رہا تھا، جس میں محمود احمدی نژاد کو دوبارہ سیاسی منظرنامے میں فعال کرنے کی کوشش بھی شامل تھی۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق محمود احمدی نژاد اپنے صدارتی دور میں اسرائیل اور امریکا کے سخت ناقد تصور کیے جاتے تھے، تاہم مبینہ طور پر بعد کے برسوں میں اسرائیلی حکام نے انہیں ایران کے اندر ایک ممکنہ سیاسی متبادل کے طور پر دیکھنا شروع کیا۔
رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنیا اور محمود احمدی نژاد کے درمیان 2024 میں ہنگری کے دارالحکومت بڈاپسٹ میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کانفرنس کے دوران ملاقات ہوئی۔ اخبار کے مطابق سابق ایرانی صدر کو کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی، جبکہ ان کے سفر اور قیام کے اخراجات بھی مبینہ طور پر اسرائیلی فریق کی جانب سے ادا کیے گئے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیلی اہلکاروں نے بیرونِ ملک مختلف مواقع پر محمود احمدی نژاد سے ملاقاتیں کیں، جبکہ مبینہ منصوبے کا آغاز 2022 میں ہوا اور غزہ جنگ کے دوران بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق ایران پر حملوں کے آغاز کے دوران محمود احمدی نژاد کے محافظوں کو بھی نشانہ بنایا گیا تاکہ انہیں مبینہ طور پر کسی پابندی یا نگرانی کی صورتحال سے نکالا جا سکے، تاہم بعد میں سابق ایرانی صدر نے خود کو اس مبینہ منصوبے سے الگ کر لیا۔
محمود احمدی نژاد 2005 سے 2013 تک ایران کے صدر رہے۔ اپنے دورِ اقتدار میں وہ امریکا اور اسرائیل مخالف بیانات، سخت خارجہ پالیسی اور ایران کے جوہری پروگرام کی حمایت کے باعث عالمی سطح پر نمایاں رہے۔
رپورٹ کے مطابق صدارت سے سبکدوش ہونے کے بعد انہیں متعدد مرتبہ صدارتی انتخابات میں حصہ لینے سے روکا گیا، جبکہ بعد کے برسوں میں انہوں نے ایرانی حکومت کی بعض پالیسیوں پر تنقید بھی کی اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کی کوشش کی۔
نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ محمود احمدی نژاد کو آخری مرتبہ 6 جولائی کو ایران کے سابق سپریم لیڈر کے جنازے میں دیکھا گیا تھا۔ اخبار کے مطابق ان کی موجودہ صورتحال واضح نہیں، جبکہ بعض اطلاعات میں یہ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ ایرانی سکیورٹی اداروں کی تحویل میں ہو سکتے ہیں۔
تاہم رپورٹ میں کیے گئے ان تمام دعوؤں کی ایرانی حکومت، محمود احمدی نژاد یا اسرائیلی حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔