حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
"ہمیں کسی بیرونی محافظ کی ضرورت نہیں اگر ٹرمپ کو رکھوالی کا شوق ہو تو لنزے گراہم کا مجاور بن جائیں"،ابراہیم رضائی Home / بین الاقوامی /

"ہمیں کسی بیرونی محافظ کی ضرورت نہیں اگر ٹرمپ کو رکھوالی کا شوق ہو تو لنزے گراہم کا مجاور بن جائیں"،ابراہیم رضائی

ایڈیٹر - 14/07/2026

ویب ڈیسک: ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز سے متعلق حالیہ بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اپنی سمندری حدود اور اہم بحری گزرگاہ کے تحفظ کے لیے اسے کسی غیرملکی طاقت کی مدد درکار نہیں۔

ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے بیان میں امریکی صدر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایران اپنی دفاعی صلاحیت پر مکمل اعتماد رکھتا ہے اور آبنائے ہرمز کی حفاظت کے لیے کسی "بیرونی گارڈ" کی ضرورت نہیں۔

ابراہیم رضائی نے طنزیہ انداز اپناتے ہوئے کہا کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ کو سکیورٹی گارڈ کا کردار ادا کرنے کا اتنا ہی شوق ہے تو وہ کسی اور جگہ اپنی خدمات انجام دیں۔ ان کا یہ تبصرہ امریکی صدر کے حالیہ ریمارکس پر براہِ راست ردعمل کے طور پر سامنے آیا۔

ایرانی عہدیدار کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تہران اور واشنگٹن کے درمیان لفظی محاذ آرائی بھی شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹیلی فونک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ امریکا آبنائے ہرمز کی سلامتی کو یقینی بنانے میں مرکزی کردار ادا کرے گا اور ممکن ہے مستقبل میں اسی بحری گزرگاہ کی نگرانی بھی امریکا کے سپرد ہو۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اس ذمہ داری کے بدلے امریکا کو مالی معاوضہ ملنا چاہیے کیونکہ کئی ممالک اس بحری راستے سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

امریکی صدر نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ امریکا خطے میں بحری سلامتی برقرار رکھنے کے لیے بھاری وسائل استعمال کر رہا ہے، اس لیے اس کے اتحادی ممالک کو اس کی قیمت ادا کرنی چاہیے۔

اسی گفتگو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حالیہ حملوں میں ایران کے متعدد عسکری اہداف اور فضائی دفاعی نظام کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔

یاد رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شامل ہے، جہاں سے عالمی منڈیوں کے لیے تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اسی وجہ سے اس علاقے میں پیدا ہونے والی ہر کشیدگی عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔