ویب ڈیسک: شہداء سے متعلق جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیان پر حکومتی حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ وزیر مملکت برائے سمندر پار پاکستانی امور عون چوہدری نے مولانا فضل الرحمان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے بیان پر شہداء کے اہلِ خانہ اور پوری قوم سے معذرت کریں۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عون چوہدری کا کہنا تھا کہ شہادت کو مالی مراعات یا تنخواہ سے جوڑنا نہ صرف نامناسب بلکہ شہداء کے عظیم مقام کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہادت کا رتبہ وطن سے محبت، غیرمتزلزل ایمان اور قربانی کے جذبے سے حاصل ہوتا ہے، اسے کسی مالی پیمانے پر نہیں پرکھا جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہداء نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر ملک میں امن اور استحکام کی بنیاد رکھی، اس لیے ان کی قربانیوں پر پوری قوم کو فخر ہے۔ ان کے بقول ایسا بیان شہداء اور ان کے خاندانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔
ادھر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بھی مولانا فضل الرحمان کے بیان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی شہید کی جان کی قیمت کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ وطن کے لیے جان قربان کرنے والوں کی عظمت ہر قسم کے مادی مفادات سے بالاتر ہے۔
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں دہشت گردوں نے عام شہریوں کو آسان ہدف سمجھ کر حملے کیے، تاہم حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنی حکمت عملی پر پوری سنجیدگی سے عمل پیرا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی چاہے مذہبی انتہاپسندی کی شکل میں ہو یا علیحدگی پسند عناصر کی صورت میں، دونوں کا مقصد ریاست کو نقصان پہنچانا ہے۔ ان کے مطابق ایسے تمام عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے قومی سطح پر مضبوط اور متفقہ بیانیہ ناگزیر ہے۔