حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
ٹرمپ کا ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کا اعلان، آبنائے ہرمز پر بھی بڑا فیصلہ سنا دیا Home / بین الاقوامی /

ٹرمپ کا ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کا اعلان، آبنائے ہرمز پر بھی بڑا فیصلہ سنا دیا

ایڈیٹر - 14/07/2026
ٹرمپ کا ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کا اعلان، آبنائے ہرمز پر بھی بڑا فیصلہ سنا دیا

ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید سخت فوجی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ چند گھنٹوں کے دوران امریکی افواج ایران کے مختلف اہداف پر نئے حملے کریں گی، جبکہ آبنائے ہرمز سے متعلق بھی اہم حکمت عملی پر عمل درآمد شروع کیا جا رہا ہے۔

ایک ریڈیو پروگرام میں میزبان ہیو ہیوٹ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ پیر کی رات اور منگل کے روز ایران کے خلاف بھرپور فوجی آپریشن جاری رکھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا وسطی ایران میں واقع کوہ کولانگ گاز لا کے علاقے کو بھی ہدف بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کو سفارتی راستہ اختیار کرنے کا موقع دیا گیا تھا، تاہم تہران نے مفاہمتی یادداشت پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث امریکا نے اپنی حکمت عملی تبدیل کی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مکمل رابطہ اور تعاون موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ بعض معاملات پر اختلافِ رائے ہو جاتا ہے، تاہم وہ اپنی رائے کھل کر اسرائیلی قیادت تک پہنچاتے ہیں۔

بعد ازاں وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ امریکی فوج ایران کی عسکری صلاحیتوں کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہے، جبکہ آبنائے ہرمز سے متعلق ایرانی فوجی استعداد کو بھی کمزور بنانے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج رات بھی ایران کے خلاف فوجی حملے کیے جائیں گے، تاہم ان کے بقول اگر مناسب شرائط پوری ہوں تو سفارتی معاہدے کا امکان اب بھی موجود ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی براہِ راست بمباری کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران کی اعلیٰ عسکری قیادت کو شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے۔

امریکی صدر نے آبنائے ہرمز میں امریکی کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جن ممالک کی بحری تجارت اور جہاز رانی کے تحفظ کو امریکا یقینی بنا رہا ہے، انہیں اس سکیورٹی کے اخراجات بھی برداشت کرنا ہوں گے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی ڈونلڈ ٹرمپ آبنائے ہرمز سے متعلق نئی پالیسی کا اعلان کر چکے ہیں، جس کے تحت امریکی انتظامیہ نے اس اہم بحری گزرگاہ پر نگرانی مزید سخت کرنے کا عندیہ دیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا آبنائے ہرمز کی سلامتی کو یقینی بنانے میں مرکزی کردار ادا کرے گا اور اس راستے سے گزرنے والے تجارتی کارگو پر بیس فیصد فیس عائد کرنے کی تجویز بھی دی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی بحری تجارت کے لیے کھلی رہے گی، تاہم ایران کے جہازوں اور ان سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں پر پابندیاں برقرار رکھی جائیں گی، جبکہ دیگر ممالک کے تجارتی جہاز معمول کے مطابق اس بحری راستے سے آمدورفت کر سکیں گے۔