ویب ڈیسک: امریکا اور ایران کے درمیان جاری فوجی کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ دونوں ممالک کی تازہ کارروائیوں کے بعد خلیجی خطے میں صورتحال انتہائی نازک ہو گئی ہے، جہاں ساحلی فوجی تنصیبات، بحری راستے اور تیل بردار جہاز براہِ راست حملوں کی زد میں آ گئے ہیں۔
امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ، جسے سینٹ کام کہا جاتا ہے، نے اعلان کیا ہے کہ اس نے تیرہ جولائی کی شب ایران کے مختلف ساحلی علاقوں میں تقریباً پانچ گھنٹے تک جاری رہنے والا ایک وسیع فضائی آپریشن مکمل کیا ہے۔
سینٹ کام کے مطابق کارروائی کے دوران ایران کے ساحلی دفاعی نظام اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان میں بوشہر، چاہ بہار، جاسک، کنارک، ابو موسیٰ اور بندر عباس کے علاقے شامل ہیں، جہاں میزائل اور ڈرون اڈوں سمیت متعدد عسکری اہداف پر حملے کیے گئے۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ آپریشن میں جدید ترین ہتھیار استعمال کیے گئے تاکہ ایران کی بحری حملوں کی صلاحیت کو کمزور بنایا جا سکے اور بین الاقوامی بحری گزرگاہوں کو لاحق خطرات میں کمی لائی جا سکے۔
امریکی حکام کے مطابق اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں پچاس ہزار سے زائد امریکی فوجی مختلف مقامات پر تعینات ہیں اور کسی بھی ممکنہ کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف سخت فوجی کارروائی کے اعلان کے بعد ایرانی ذرائع ابلاغ نے بھی مختلف علاقوں میں دھماکوں کی اطلاعات دی ہیں۔
ایرانی خبر رساں ادارے مہر کے مطابق صوبہ خوزستان کے شہر امیدیہ میں ہونے والے حملوں میں کم از کم چار افراد زخمی ہوئے، جبکہ قشم، ابو موسیٰ اور کیش کے جزیروں میں بھی متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
اسی دوران عراق کے شمالی شہر اربیل میں بھی ایک میزائل حملے کی اطلاع موصول ہوئی، جہاں ایران مخالف کرد گروپ کے ایک مبینہ مرکز کو نشانہ بنایا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔
امریکی حملوں کے جواب میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے متحدہ عرب امارات کے دو بڑے تیل بردار سپر ٹینکروں کو عمان کی سمندری حدود میں کروز میزائلوں سے نشانہ بنایا۔
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کے مطابق حملے میں "مومباسا" اور "باہیہ" نامی دونوں جہازوں میں آگ بھڑک اٹھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں عملے کا ایک بھارتی شہری جان کی بازی ہار گیا جبکہ آٹھ افراد زخمی ہوئے، جن میں چار بھارتی اور دو یوکرینی شہری بھی شامل ہیں۔
اماراتی حکومت نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنی بحری املاک اور مفادات کے تحفظ کا مکمل حق حاصل ہے، اور وہ مناسب ردعمل دینے کے لیے تمام قانونی اور دفاعی اقدامات پر غور کر رہی ہے۔
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے سرکاری ٹیلی وژن پر جاری بیان میں مؤقف اختیار کیا کہ مذکورہ دونوں جہاز مبینہ طور پر مقررہ ضوابط کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ ایران کے مطابق جہازوں نے نیویگیشن نظام بند کر رکھا تھا اور متعدد انتباہات کے باوجود اپنا راستہ تبدیل نہیں کیا، جس کے بعد انہیں نشانہ بنایا گیا۔
ادھر ایران نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس نے بحرین میں واقع امریکی فوجی اڈے الجفیر پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا، جس میں اسلحہ گوداموں اور فوجیوں کی رہائشی تنصیبات کو ہدف بنایا گیا۔ تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔