حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
مالی سال 2025-26: کھیلوں کی سرگرمیوں پر 42 کروڑ 54 لاکھ روپے سے زائد خرچ، اخراجات کی تفصیلات جاری Home / سیاست,کھیل /

مالی سال 2025-26: کھیلوں کی سرگرمیوں پر 42 کروڑ 54 لاکھ روپے سے زائد خرچ، اخراجات کی تفصیلات جاری

محمد عاصم - 13/07/2026
مالی سال 2025-26: کھیلوں کی سرگرمیوں پر 42 کروڑ 54 لاکھ روپے سے زائد خرچ، اخراجات کی تفصیلات جاری

ڈائریکٹوریٹ جنرل آف اسپورٹس خیبرپختونخوا نے مالی سال 2025-26 کے اسپورٹس بجٹ اور اخراجات کی تفصیلات جاری کر دیں

پشاور (اسپورٹس رپورٹر، حسبان میڈیا): ڈائریکٹوریٹ جنرل آف اسپورٹس خیبرپختونخوا نے رواں مالی سال 2025-26 کے دوران صوبے بھر میں کھیلوں کی سرگرمیوں اور مختلف فیسٹیولز پر ہونے والے مجموعی سرکاری اخراجات کی باضابطہ تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ جاری کردہ سرکاری رپورٹ کے مطابق صوبے میں کھیلوں کے فروغ اور انعقاد کے لیے مجموعی طور پر 80 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا تھا، جس میں سے 42 کروڑ 54 لاکھ 25 ہزار روپے حقیقی اخراجات کی مد میں استعمال کیے گئے، جبکہ 17 کروڑ 45 لاکھ 99 ہزار 750 روپے کے فنڈز غیر استعمال شدہ رہے۔ اس کے علاوہ انتظامی ضروریات کے تحت 20 کروڑ روپے کی ازسرِنو تخصیص (Re-appropriation) بھی عمل میں لائی گئی۔

رپورٹ کے مطابق ڈیرہ جات فیسٹیول کے لیے مختص 15 کروڑ روپے اور ہارس اینڈ کیٹل شو کے لیے مختص 12 کروڑ روپے کے بجٹ میں سے 5 کروڑ روپے ریونیو اشیاء کی خریداری اور کھلاڑیوں کو سہولیات کی فراہمی کے لیے منتقل کیے گئے، جس کے بعد ان دونوں بڑے ایونٹس سے مجموعی طور پر 7 کروڑ روپے کی خطیر بچت کی گئی۔ اسی طرح پشاور پولو ٹورنامنٹ کے لیے مختص 7 کروڑ روپے کے بجٹ میں سے محض ایک کروڑ روپے خرچ ہوئے جبکہ 6 کروڑ روپے بچائے گئے۔ بونیر گلف دَ نمیر فیسٹیول کے لیے مختص 70 لاکھ روپے میں سے 53 لاکھ 64 ہزار 100 روپے خرچ ہوئے اور 16 لاکھ 35... [Note: Remaining source text ends abruptly at "مڈلز جیتنے و"].

صوبائی اسپورٹس ڈائریکٹوریٹ کے مطابق دیگر کھیلوں میں چترال میں آئس ہاکی اور آئس اسکیٹنگ کے مقابلوں کے لیے 80 لاکھ روپے فراہم کیے گئے، جبکہ جشنِ ہزارہ کے لیے مختص 6 کروڑ 80 لاکھ 18 ہزار روپے میں سے 3 کروڑ 13 لاکھ 32 ہزار روپے خرچ اور 3 کروڑ 66 لاکھ 86 ہزار روپے کی بچت ہوئی۔ سب سے بڑی رقم خیبرپختونخوا مرد و خواتین انٹر ریجنل گیمز پر خرچ ہوئی، جہاں مختص 25 کروڑ روپے میں سے 24 کروڑ 76 لاکھ 72 youth ہزار 150 روپے استعمال کیے گئے اور صرف 23 لاکھ 27 ہزار 850 روپے بچے۔ اس کے علاوہ نیشنل جونیئر چیمپئن شپ پر 3 کروڑ 20 لاکھ روپے خرچ کیے گئے۔

رپورٹ میں نچلی سطح اور خصوصی طبقات کے کھیلوں پر ہونے والے اخراجات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ انٹر مدارس گیمز پر 21 لاکھ 15 ہزار روپے، افرادِ باہم معذوری گیمز پر 62 لاکھ 3 ہزار روپے، اقلیتی نوجوانوں کے اسپورٹس گالا پر 16 لاکھ 82 ہزار روپے، جبکہ زمونگ کور، آغوش الخدمت فاؤنڈیشن، خپلو کور اور امن کور بونیر کے یتیم و بے سہارا بچوں کے اسپورٹس فیسٹیول پر ایک کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔ مزید برآں، یومِ پاکستان اور یومِ آزادی کی تقریبات پر 60 لاکھ روپے، جبکہ رمضان المبارک کے دوران پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان اور بونیر میں کرکٹ و فٹبال ٹورنامنٹس پر 70 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ خواجہ سرا کھلاڑیوں کے لیے مختص 9 لاکھ 82 ہزار روپے میں سے 9 لاکھ 32 ہزار روپے خرچ ہوئے، بنوں کبڈی کپ پر 30 لاکھ روپے، مستحق کھلاڑیوں کی تعلیمی معاونت پر 50 لاکھ روپے، جبکہ کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور انعامات پر ایک کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔ تحصیل، ضلعی، ریجنل، صوبائی اور قومی سطح کے مقابلوں کے مجموعی انعقاد پر 10 کروڑ روپے کی بھاری رقم خرچ کی گئی ہے۔