خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے سرکاری سکولوں میں نئے طلبہ کے داخلے کے لیے چلائی جانے والی چار ماہ سے زائد عرصے پر محیط انرولمنٹ مہم اپنے مقررہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق مہم کے دوران سرکاری سکولوں میں داخلوں کی شرح توقعات سے کہیں کم رہی، جبکہ نجی تعلیمی اداروں نے اپنے اہداف سے بھی بہتر نتائج حاصل کیے۔
محکمہ تعلیم کے دستیاب اعدادوشمار کے مطابق ابتدائی اور ثانوی درجے کے سرکاری سکولوں کے لیے گیارہ لاکھ اکسٹھ ہزار دو سو تین نئے طلبہ کے داخلے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، تاہم اب تک صرف چار لاکھ بائیس ہزار آٹھ سو ننانوے بچوں کا داخلہ ممکن بنایا جا سکا، جو مجموعی ہدف کا تقریباً چھتیس فیصد بنتا ہے۔
اس کے برعکس نجی تعلیمی اداروں نے نمایاں کارکردگی دکھائی۔ نجی سکولوں کے لیے تین لاکھ اٹھانوے ہزار پانچ سو ستاسی طلبہ کے داخلے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، لیکن انہوں نے چار لاکھ اکیس ہزار نو سو ننانوے نئے طلبہ کو داخلہ دے کر مقررہ ہدف سے بھی زیادہ، یعنی ایک سو چھ فیصد کامیابی حاصل کی۔
سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کو ملا کر مجموعی طور پر انیس لاکھ بہتر ہزار تین سو اڑتیس نئے داخلوں کا ہدف رکھا گیا تھا، مگر اب تک صرف آٹھ لاکھ نوے ہزار تین سو دو طلبہ کا اندراج ہو سکا، جس کے باعث مجموعی کامیابی کی شرح صرف پینتالیس فیصد رہی۔
ضلعی سطح پر بھی کئی علاقوں میں نتائج انتہائی مایوس کن سامنے آئے۔ شمالی وزیرستان میں چھبیس ہزار آٹھ سو تہتر بچوں کے ہدف کے مقابلے میں صرف ایک سو پینسٹھ داخلے ہوئے، جو تقریباً ایک فیصد بنتے ہیں۔ کوہستان اپر میں سترہ ہزار تین سو چونتیس کے ہدف کے مقابلے میں صرف ایک ہزار تین سو ستتر طلبہ داخل ہوئے۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں ستاون ہزار چھ سو اٹھہتر بچوں کے ہدف کے مقابلے میں صرف سات ہزار تین سو اکاون داخلے ریکارڈ کیے گئے، جبکہ خیبر، ٹانک اور جنوبی وزیرستان لوئر میں بھی داخلہ مہم کی کامیابی کی شرح تیرہ سے چودہ فیصد کے درمیان رہی۔
صوبائی دارالحکومت پشاور میں ایک لاکھ بائیس ہزار تین سو اسی طلبہ کے ہدف کے مقابلے میں صرف اٹھائیس ہزار ایک سو پچپن بچوں کا داخلہ ہوا۔ اسی طرح مردان میں سڑسٹھ ہزار آٹھ سو چھ کے مقابلے میں پچیس ہزار چار سو پچھتر، باجوڑ میں پچاس ہزار چھ سو چوّن کے مقابلے میں پندرہ ہزار آٹھ سو چودہ اور بنوں میں چھیالیس ہزار سات سو سترہ کے مقابلے میں صرف سات ہزار پانچ سو اناسی طلبہ کا اندراج ممکن ہو سکا۔
دوسری جانب چند اضلاع نے نسبتاً بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ ایبٹ آباد اس فہرست میں سرفہرست رہا، جہاں پچیس ہزار سات سو نو کے ہدف کے مقابلے میں بائیس ہزار چھ سو چھیاسٹھ نئے طلبہ داخل ہوئے اور کامیابی کی شرح اٹھاسی فیصد رہی۔
چترال اپر میں تین ہزار دو سو گیارہ کے ہدف کے مقابلے میں دو ہزار چھ سو سڑسٹھ طلبہ نے داخلہ لیا، جس سے کامیابی کی شرح تراسی فیصد رہی، جبکہ دیر اپر نے چھتیس ہزار چار سو انیس کے ہدف کے مقابلے میں اٹھائیس ہزار نو سو پچانوے داخلے کرکے اسی فیصد ہدف حاصل کیا۔ دیر لوئر اور چترال لوئر میں بھی دیگر کئی اضلاع کے مقابلے میں بہتر نتائج سامنے آئے۔
تعلیمی حلقوں کے مطابق رواں تعلیمی سال کے دوران سمسٹر سسٹم کے نفاذ، تعلیمی کیلنڈر میں بار بار ردوبدل اور انتظامی مشکلات کے باعث داخلہ مہم اپنی مطلوبہ رفتار برقرار نہ رکھ سکی، جس کے نتیجے میں بیشتر اضلاع مقررہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے۔