حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
یوکرین کی سیاست میں بڑا دھماکا! وزیراعظم کی رخصتی کے اعلان کے بعد پوری کابینہ مستعفی، نئی قیادت کی تیاریاں شروع Home / بین الاقوامی /

یوکرین کی سیاست میں بڑا دھماکا! وزیراعظم کی رخصتی کے اعلان کے بعد پوری کابینہ مستعفی، نئی قیادت کی تیاریاں شروع

ایڈیٹر - 13/07/2026
یوکرین کی سیاست میں بڑا دھماکا! وزیراعظم کی رخصتی کے اعلان کے بعد پوری کابینہ مستعفی، نئی قیادت کی تیاریاں شروع

یوکرین میں حکومتی سطح پر بڑی سیاسی تبدیلی سامنے آ گئی ہے، جہاں صدر وولودیمیر زیلنسکی نے وزیراعظم یولیا سویریڈینکو کو عہدے سے ہٹانے کا اعلان کرتے ہوئے حکومت میں وسیع پیمانے پر ردوبدل کا عندیہ دیا ہے۔ وزیراعظم کی رخصتی کے اعلان کے بعد آئینی تقاضوں کے مطابق پوری کابینہ نے بھی اجتماعی طور پر استعفیٰ دے دیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق صدر وولودیمیر زیلنسکی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم "ایکس" پر جاری اپنے بیان میں یولیا سویریڈینکو کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہیں ملک کے ایک اہم بین الاقوامی شراکت دار کے ساتھ تعلقات سے متعلق نئی ذمہ داری سونپنے کی تجویز دی گئی ہے۔

صدر زیلنسکی کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کے تعاون سے نئی حکومتی ٹیم تشکیل دی جائے گی اور مختلف وزارتوں میں ضروری تبدیلیاں عمل میں لائی جائیں گی۔ تاہم انہوں نے نہ تو نئے وزیراعظم کے نام کا اعلان کیا اور نہ ہی یولیا سویریڈینکو کی نئی ذمہ داریوں کی تفصیلات بیان کیں۔

صدر نے یہ بھی واضح کیا کہ حکومت کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اعلیٰ قیادت میں بھی تبدیلیاں متوقع ہیں، تاہم ان فیصلوں کی وجوہات کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔

یولیا سویریڈینکو، جو معاشیات کے شعبے سے وابستہ ہیں، جولائی ۲۰۲۵ میں یوکرین کی وزیراعظم بنی تھیں۔ اس سے قبل وہ صدر کے دفتر میں نائب سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکی ہیں، جبکہ نائب وزیراعظم اور اقتصادی ترقی و تجارت کی وزیر کے طور پر بھی کئی برس تک اہم ذمہ داریاں نبھاتی رہیں۔

یوکرین کے آئین کے مطابق وزیراعظم کے استعفے کی منظوری پارلیمنٹ دیتی ہے، اور وزیراعظم کے منصب سے الگ ہونے کے بعد پوری کابینہ بھی خودبخود تحلیل ہو جاتی ہے۔

ادھر غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ ایک برس کے دوران یوکرین کو ایک بڑے مالی بدعنوانی کے معاملے کا سامنا بھی رہا، جس کے باعث صدارتی انتظامیہ سے وابستہ ایک بااثر عہدیدار کو استعفیٰ دینا پڑا۔

رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سرکاری جوہری توانائی کمپنی اینرگوایٹم میں مبینہ طور پر تقریباً دس کروڑ ڈالر کی غیر قانونی ادائیگیوں سے متعلق تحقیقات نے حکومتی حلقوں میں بھی تشویش پیدا کی۔ اسی معاملے میں صدر زیلنسکی کے سابق کاروباری شراکت دار تیمور مینڈیچ اور سابق چیف آف اسٹاف آندری یرماک پر بھی الزامات سامنے آئے، تاہم دونوں شخصیات ان الزامات کی تردید کر چکی ہیں۔

پارلیمانی ذرائع کے مطابق وزارتِ توانائی کے وزیر ڈینس شمیہال، وزیر دفاع میخائیلو فیڈوروف اور سرکاری توانائی کمپنی نفتوگاز کے سربراہ سرہی کوریٹسکی وزیراعظم کے منصب کے لیے زیر غور ناموں میں شامل ہیں۔

دوسری جانب اپوزیشن رکن پارلیمنٹ یاروسلاو ژیلیزنیاک کا کہنا ہے کہ سرہی کوریٹسکی کے نئے وزیراعظم بننے کے امکانات زیادہ دکھائی دیتے ہیں، جبکہ بعض رپورٹس میں یولیا سویریڈینکو کو امریکا میں یوکرین کا سفیر مقرر کیے جانے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس وقت واشنگٹن میں یوکرین کی سفیر کے فرائض اولگا اسٹیفانیشینا انجام دے رہی ہیں۔