حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
وفاقی آئینی عدالت نے 'مونال ریسٹورنٹ' کو گرانے سے متعلق سپریم کورٹ کا سابقہ فیصلہ کالعدم قرار دے دیا Home / پاکستان /

وفاقی آئینی عدالت نے 'مونال ریسٹورنٹ' کو گرانے سے متعلق سپریم کورٹ کا سابقہ فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

ایڈیٹر - 13/07/2026
وفاقی آئینی عدالت نے 'مونال ریسٹورنٹ' کو گرانے سے متعلق سپریم کورٹ کا سابقہ فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریسٹورنٹ گرانے کا سپریم کورٹ کا فیصلہ کالعدم کر دیا، ٹرائل کورٹس کو آزادانہ فیصلے کی ہدایت

اسلام آباد ( حسبان میڈیا): وفاقی آئینی عدالت نے مارگلہ ہلز پر واقع مشہور 'مونال ریسٹورنٹ' کو مسمار کرنے سے متعلق سپریم کورٹ آف پاکستان کا سابقہ فیصلہ مکمل طور پر کالعدم قرار دے دیا ہے۔ عدالتِ عالیہ نے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور میٹرو پولیٹن کارپوریشن کی جانب سے دائر اپیلیں منظور کرتے ہوئے معاملے پر جاری حکمِ امتناع (اسٹے آرڈر) کو بھی ختم کر دیا ہے اور ٹرائل کورٹس کو ان مقدمات کے جلد سے جلد فیصلے کرنے کی واضح ہدایت جاری کی ہے۔ 

میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں صراحت کے ساتھ قرار دیا ہے کہ ریسٹورنٹ اور اس سے منسلک زمین کی اصل ملکیت کا تعین کرنا ٹرائل کورٹس کا دائرہ اختیار ہے۔ ٹرائل کورٹس سابقہ عدالتی ابزرویشنز اور ریمارکس سے بالکل متاثر ہوئے بغیر مکمل طور پر آزادانہ اور قانونی بنیادوں پر یہ فیصلہ سنانے کی پابند ہوں گی۔ مزید برآں، عدالت نے واضح کیا کہ جگہ سے جڑے تمام انتظامی اور ریگولیٹری معاملات کا حتمی فیصلہ متعلقہ انتظامی اداروں کی ذمہ داری ہے۔

کیس کی تفصیلی سماعت کے دوران بینچ کے اہم رکن جسٹس حسن اظہر رضوی نے سپریم کورٹ کے پرانے فیصلے پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے ریمارکس دیئے کہ سابقہ فیصلے میں بہت سے اہم قانونی نکات اور بنیادی حقائق کو سرے سے مدِ نظر ہی نہیں رکھا گیا تھا۔ انہوں نے ریمارکس جاری رکھتے ہوئے کہا کہ وہاں محض کیس دائر کرنے یا نظرِ ثانی کی درخواست لانے پر بھی عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کیا تھا۔ جسٹس حسن رضوی کا کہنا تھا کہ "جب انہوں نے سپریم کورٹ کا وہ فیصلہ پڑھا تو انہیں شدید اندازہ ہوا کہ بہت کچھ ایسا تحریر کیا گیا جو عدالتی کارروائی کا حصہ ہی نہیں تھا۔ سابقہ فیصلے میں وہ کچھ لکھ دیا گیا جس کا اصل حقائق سے کوئی تعلق تک نہ تھا، لیکن ہم یہاں کوئی جذباتی فیصلہ کرنے نہیں بیٹھے۔" 

سماعت کے دوران ایک دلچسپ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب معروف وکیل احسن بھون نے وفاقی آئینی عدالت کے بینچ کی تیاری کو سراہتے ہوئے کہا کہ عدالت نے اس کیس کو بہت اچھے طریقے سے پڑھا ہے۔ اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے انہیں فوری طور پر ٹوکتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ "عدالت میں بیٹھ کر ہماری تعریفیں نہ کریں، جو قانونی سماعت ہوئی ہے ہم وہی سچا اور آئینی حکم جاری کریں گے، اپنے فیصلے میں الف لیلیٰ کی کہانیاں نہیں لکھیں گے۔" عدالت کے اس سخت اور اصولی موقف کو قانونی حلقوں میں آئینی بالادستی کی ایک اہم مثال قرار دیا جا رہا ہے۔