یورپ اور برطانیہ جانے کے خواہشمند پاکستانیوں کو شدید دھچکا، سال 2025 میں 1 لاکھ 12 ہزار ویزہ درخواستیں مسترد، 4.56 ارب روپے ڈوب گئے
اسلام آباد : یورپ اور برطانیہ کے سفر کے خواہشمند پاکستانی شہریوں کے لیے پچھلا سال شدید مالی نقصان اور مایوسی کا باعث ثابت ہوا ہے۔ ایک مستند رپورٹ کے مطابق، سال 2025 کے دوران برطانیہ اور شینگن ممالک نے پاکستانیوں کی مجموعی طور پر 1 لاکھ 12 ہزار 387 شارٹ ٹرم (مختصر السیادت) ویزہ درخواستیں مسترد کر دیں، جس کے نتیجے میں پاکستانی شہریوں کو ناقابلِ واپسی ویزہ فیسوں کی مد میں اندازاً 4.56 ارب روپے کا خطیر مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، برطانوی حکام نے پاکستانی شہریوں کے حوالے سے سب سے سخت رویہ اپنایا۔ برطانیہ نے پاکستانیوں کی جانب سے دائر کی جانے والی وزیٹر ویزہ کی تقریباً 72 ہزار درخواستیں خارج کیں، جس کے بعد پاکستان کے لیے برطانیہ کا ویزہ ریجیکشن ریٹ (درخواستیں مسترد ہونے کی شرح) تاریخ کی بلند ترین سطح یعنی 44 فیصد تک پہنچ گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لگ بھگ ہر دوسری درخواست دینے والے کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔
دوسری جانب، یورپی یونین کے شینگن ممالک نے بھی پاکستانیوں کے لیے مروجہ قوانین کو انتہائی سخت کر دیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، شینگن ممالک کی جانب سے مزید 40 ہزار 199 پاکستانیوں کی ویزہ درخواستیں مسترد کی گئیں، جہاں ویزہ نہ دینے کی شرح ریکارڈ 46 فیصد تک جا پہنچی۔ اس غیر لچکدار سفارتی رویے نے یورپ میں تعلیم، کاروبار یا سیاحت کے مواقع تلاش کرنے والے ہزاروں پاکستانیوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانیوں کا یہ مالی نقصان صرف ایمبیسی کی مقررہ فیسوں تک محدود نہیں ہے۔ ویزہ کے حصول کے لیے کوشاں افراد کو قانونی دستاویزات کی تیاری، تصدیق شدہ تراجم، لازمی ٹریول انشورنس اور تھرڈ پارٹی ویزہ پروسیسنگ سروسز (مثلاً الائنسز اور ایجنٹس) کی مد میں بھی بھاری اضافی ادائیگیاں کرنا پڑیں۔ ان تمام پوشیدہ اخراجات نے ویزہ نہ ملنے کے صدمے کے ساتھ ساتھ پاکستانی خاندانوں پر معاشی بوجھ کو مزید بڑھا دیا ہے، جس کے بدلے انہیں شدید ذہنی تناؤ کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو سکا۔