ایران کی جانب سے مبینہ ڈرون حملوں کے بعد سلطنتِ عمان نے سخت سفارتی ردِعمل دیتے ہوئے مسقط میں تعینات ایرانی سفیر کو وزارتِ خارجہ طلب کر لیا اور انہیں باضابطہ احتجاجی مراسلہ حوالے کر دیا۔ عمانی حکومت نے اپنے سرکاری اثاثوں کو نشانہ بنانے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس اقدام کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔
عمانی وزارتِ خارجہ کے مطابق اتوار کے روز ہونے والے حملوں کے دوران صوبہ مسندم اور صوبہ الوسطیٰ کے مختلف مقامات کو بغیر پائلٹ طیاروں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد فوری طور پر سفارتی سطح پر احتجاج ریکارڈ کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔
ایرانی سفیر موسیٰ فرہنگ کو وزارتِ خارجہ میں طلب کیا گیا، جہاں انتظامی و مالی امور کے انڈر سیکریٹری شیخ خالد بن ہاشل المسلحی نے ان سے ملاقات کے دوران احتجاجی مراسلہ ان کے حوالے کیا۔
ملاقات میں عمانی حکام نے حملوں پر شدید تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں غیرذمہ دارانہ اقدام قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کی کارروائیاں ریاستوں کی خودمختاری، اچھے ہمسائیگی کے اصولوں اور ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت جیسے بنیادی سفارتی اصولوں سے متصادم ہیں۔
احتجاجی مراسلے میں ایران پر زور دیا گیا کہ وہ پڑوسی ممالک کی خودمختاری کا احترام کرے، ان کے داخلی معاملات میں مداخلت سے گریز کرے اور بین الاقوامی قوانین، سفارتی روایات اور اخلاقی ذمہ داریوں کی مکمل پاسداری یقینی بنائے۔
عمانی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں اس بات پر بھی زور دیا کہ دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات باہمی احترام، خودمختاری کے تحفظ اور خوشگوار ہمسائیگی کے اصولوں پر قائم رہنے چاہییں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکا کی جانب سے ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں، فوجی تنصیبات اور مواصلاتی مراکز پر تازہ فضائی حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ چکی ہے۔ ایران نے ان حملوں کو جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے جوابی اقدامات کا اعلان کیا، آبنائے ہرمز بند کرنے کا عندیہ دیا اور امریکی فوجی اہداف کے علاوہ بعض خلیجی ممالک میں موجود امریکی تنصیبات کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔
انہی کارروائیوں کے دوران عمان کے صوبہ مسندم اور صوبہ الوسطیٰ میں بھی ڈرون حملے رپورٹ ہوئے، جس کے بعد عمان نے انہیں اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ایران کے خلاف باضابطہ سفارتی احتجاج ریکارڈ کرا دیا۔