قرآنِ مجید کی سادگی اور واضح پیغام بے حد پسند آیا، اسے پڑھنے کے بعد ابہام کی گنجائش نہیں رہتی: ہالی ووڈ سپر اسٹار ول اسمتھ
لاس اینجلس : عالمی شہرت یافتہ ہالی ووڈ اداکار ول اسمتھ نے قرآنِ مجید کے بارے میں اپنے دلی تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ قرآنِ پاک کی سادگی، فصاحت اور واضح پیغام سے بے حد متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے الہامی کتاب کے اسلوب کو شیشے کی طرح صاف قرار دیا ہے جس میں کسی بھی قسم کے ابہام کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔
ایک حالیہ انٹرویو کے دوران گفتگو کرتے ہوئے معروف امریکی اداکار کا کہنا تھا کہ "مجھے قرآنِ مجید کی سادگی بہت پسند آئی۔ یہ بالکل واضح ہے اور اس کا پیغام شیشے کی طرح صاف ہے۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی انسان سچے دل سے اسے پڑھے اور کسی غلط فہمی یا ذہنی ابہام کے ساتھ واپس جائے۔ اس مقدس کتاب کی روح اور پیغام نہایت خوبصورت اور واضح ہیں۔" ول اسمتھ نے اپنی گفتگو میں اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ وہ دیگر الہامی کتب بشمول تورات اور انجیل کا مطالعہ بھی کر چکے ہیں، جبکہ اس وقت وہ قرآنِ مجید کا شروع سے آخر تک گہرائی کے ساتھ مطالعہ کر رہے ہیں۔
ہالی ووڈ اسٹار کے اس بیانیے نے دنیا بھر سمیت سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز پر صارفین کی جانب سے ول اسمتھ کے ان تاثرات کو بڑے پیمانے پر شیئر اور پسند کیا جا رہا ہے۔ جہاں ایک طرف دنیا بھر کے مسلم صارفین قرآنِ مجید کی آفاقیت اور حقانیت پر مبنی ان کے الفاظ کی ستائش کر رہے ہیں، وہیں دوسری طرف بین الاقوامی مبصرین اسے ہالی ووڈ کی معروف شخصیات میں اسلامی تعلیمات اور فلسفے کو سمجھنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔