ملک بھر میں مون سون بارشوں کا طاقتور سلسلہ جاری ہے جس نے ایک طرف موسم کو خوشگوار بنا دیا ہے، تو دوسری جانب کئی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے سے شہریوں کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ مختلف مقامات پر نشیبی علاقے پانی میں ڈوب گئے، رابطہ سڑکیں متاثر ہوئیں، جبکہ متعلقہ اداروں نے عوام کو احتیاط برتنے کی ہدایت کرتے ہوئے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔
پنجاب کے متعدد شہروں میں ہونے والی موسلا دھار بارش کے بعد شکرگڑھ، فاروق آباد، حافظ آباد، ننکانہ صاحب، بھلوال، شرقپور شریف، فیروزوالا، اٹک، حسن ابدال، جہلم اور خانیوال کے کئی نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے۔ بارش کا پانی سڑکوں، بازاروں اور گلیوں میں جمع ہونے سے معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہوئے اور شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
خانیوال میں بارش کے دوران بجلی کے متعدد فیڈر بند ہونے سے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر رہی، جبکہ حسن ابدال میں شدید بارش کے باعث مختلف مقامات پر دیواریں گرنے کے واقعات بھی پیش آئے۔
ادھر گلگت بلتستان کے ضلع دیامر اور اس سے ملحقہ علاقوں میں شدید بارش، بادل پھٹنے اور گلیشیئر پگھلنے سے آنے والے سیلابی ریلوں نے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا۔ کئی رابطہ پل، شاہراہیں اور سڑکیں بہہ گئیں، جبکہ مختلف مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ہزاروں مقامی افراد اور سیاح راستوں میں پھنس گئے۔ چلاس اور گردونواح میں پینے کے پانی کی مرکزی لائنیں، بجلی کے کھمبے اور دیگر بنیادی سہولیات بھی متاثر ہوئیں، جس کے باعث پانی اور بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی خیبرپختونخوا نے ممکنہ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ چترال، سوات، دیر، شانگلہ، مانسہرہ اور کوہستان میں لینڈ سلائیڈنگ جبکہ ملاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن میں اچانک سیلاب آنے کا خدشہ موجود ہے۔ شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور ندی نالوں کے قریب نہ جانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران خیبرپختونخوا کے بیشتر اضلاع میں گرج چمک، تیز ہواؤں اور بارش کا امکان برقرار رہے گا۔ پشاور، نوشہرہ، مردان، چارسدہ، صوابی، چترال، اپر دیر، لوئر دیر، سوات، شانگلہ، ملاکنڈ، بونیر، باجوڑ، کوہستان، بٹگرام، مانسہرہ اور ایبٹ آباد میں بارش متوقع ہے، جبکہ مہمند، کرم، بنوں اور جنوبی وزیرستان میں آندھی اور طوفانی ہواؤں کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کاکول میں سب سے زیادہ انتالیس ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ باجوڑ میں انتیس ملی میٹر، مالم جبہ میں نو ملی میٹر اور کالام میں چار ملی میٹر بارش ہوئی۔ پشاور میں کم سے کم درجہ حرارت چوبیس ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت چھتیس ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی توقع ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں پارہ انتالیس ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے، جبکہ مالم جبہ میں کم سے کم تیرہ اور کالام میں پندرہ ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔
بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور خشک رہنے کی توقع ہے، تاہم ژوب، موسیٰ خیل، قلات، شیرانی، کوہلو، بارکھان، ڈیرہ بگٹی، خضدار اور آواران میں گرج چمک کے ساتھ بارش ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ کوئٹہ میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت چھتیس، قلات بتیس، زیارت چوبیس، ژوب چونتیس، سبی چوالیس، تربت چھیالیس، نوکنڈی بیالیس، چمن اڑتیس، گوادر انتالیس اور جیوانی اڑتیس ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
کراچی میں کم سے کم درجہ حرارت انتیس ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ موجودہ درجہ حرارت تیس ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ہوا میں نمی کا تناسب اٹھہتر فیصد ہے اور جنوب مغرب سے اٹھارہ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ کراچی میں آج موسم مرطوب اور مطلع جزوی طور پر ابر آلود رہنے کا امکان ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں تیز ہوائیں چل سکتی ہیں جبکہ کہیں کہیں ہلکی بوندا باندی بھی متوقع ہے۔ آج زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت پینتیس ڈگری سینٹی گریڈ تک رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔