طورخم بارڈر کے ذریعے غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی وطن واپسی کا عمل بدستور جاری، گزشتہ روز 3 ہزار 790 افراد روانہ
پشاور : حکومتِ پاکستان کی پالیسی کے تحت ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں بالخصوص افغان شہریوں کی مرحلہ وار وطن واپسی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ متعلقہ ذرائع کے مطابق گزشتہ روز مجموعی طور پر 3 ہزار 790 افغان شہریوں کو قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد پاک افغان طورخم بارڈر کے راستے افغانستان روانہ کر دیا گیا ہے۔
سرکاری ذرائع سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق سب سے زیادہ 1 ہزار 834 افغان شہری حمزہ بابا ہولڈنگ سینٹر، لنڈی کوتل سے اپنے وطن واپس بھیجے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ صوبہ خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں قائم دیگر عارضی کیمپوں سے بھی واپسی کا عمل کامیابی سے مکمل کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق جمعہ خان کیمپ سے 838 اور اضا خیل کیمپ سے 448 افغان شہریوں کی وطن واپسی عمل میں لائی گئی۔
ذرائع نے مزید تصدیق کی ہے کہ کوہاٹ کیمپ سے 329، نوشہرہ کیمپ سے 171 اور ناگمان کیمپ سے 135 افغان شہری طورخم کے راستے افغانستان روانہ ہوئے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہری پور کیمپ سے 18، صوابی سے 8 اور ضلع خیبر کے علاقے جمرود سے 9 افغان شہریوں کی اپنے ملک واپسی کو یقینی بنایا گیا ہے۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت کی منظور شدہ پالیسی کے تحت غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی واپسی کا یہ عمل انتہائی منظم اور مرحلہ وار طریقے سے جاری ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے قائم کردہ مختلف ہولڈنگ سینٹرز اور عارضی کیمپوں سے روزانہ کی بنیاد پر تمام ضروری سفری اور سکیورٹی دستاویزات کی جانچ پڑتال کے بعد افغان شہریوں کو طورخم بارڈر روانہ کیا جا رہا ہے تاکہ یہ عمل پرامن اور شفاف انداز میں مکمل ہو سکے۔