سوات: پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی چیئرمین اور خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ محمود خان نے موجودہ صوبائی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ صوبے میں بیڈ گورننس اور کرپشن عروج پر ہے، جہاں فنڈز کے اجرا پر 12 سے 15 فیصد تک مبینہ کمیشن لیا جا رہا ہے۔ سوات کے علاقے مٹہ میں اپنی رہائش گاہ پر میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے صوبائی حکومت کی مجموعی کارکردگی کو انتہائی مایوس کن قرار دیا۔
محمود خان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کا موجودہ صوبائی بجٹ مکمل طور پر ناکام ہے، کیونکہ اس میں ترقیاتی اور غیر ترقیاتی بجٹ نہ ہونے کے برابر ہے، جبکہ خود حکومت بھی اسے خسارے کا بجٹ تسلیم کر رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر موجودہ سست رفتار برقرار رہی تو صوبے کے جاری ترقیاتی منصوبوں کو مکمل ہونے میں 30 سال کا طویل عرصہ لگ جائے گا، جس کا براہ راست خمیازہ عوام کو مختلف مسائل کی شکل میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔
سیاسی منظرنامے پر بات کرتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ علی امین گنڈاپور کو صوبے میں بیڈ گورننس اور بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے ٹاسک میں ناکامی پر وزارت اعلیٰ سے ہٹایا گیا، جبکہ سہیل آفریدی بھی اپنے سپرد کیے گئے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ ناراض اراکین اسمبلی کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کے ناراض اور دیگر اراکین ان سے مسلسل رابطے میں ہیں، تاہم ان اراکین کی اپنی کوئی آزاد حیثیت نہیں کیونکہ ووٹ صرف بانی پی ٹی آئی کا ہے۔ بلیو پاسپورٹ کے معاملے پر ان کا کہنا تھا کہ یہ وفاقی حکومت کا اختیار ہے اور وہ نہیں سمجھتے کہ موجودہ اراکین اسمبلی کو یہ پاسپورٹ مل سکے گا۔ انہوں نے صحافیوں کے خلاف قانون سازی کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی اور ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس نفاذ کی ذمہ داری 2018 کی حکومت پر عائد کی۔