حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
آبنائے ہرمز میں خطرناک موڑ، ایرانی کارروائی کے بعد امریکا نے جوابی فوجی آپریشن کا اعلان کر دیا Home / بین الاقوامی /

آبنائے ہرمز میں خطرناک موڑ، ایرانی کارروائی کے بعد امریکا نے جوابی فوجی آپریشن کا اعلان کر دیا

ایڈیٹر - 12/07/2026
آبنائے ہرمز میں خطرناک موڑ، ایرانی کارروائی کے بعد امریکا نے جوابی فوجی آپریشن کا اعلان کر دیا

واشنگٹن: مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ اقدام قبرص کے پرچم بردار ایک مال بردار کنٹینر جہاز پر ہونے والے مبینہ ایرانی حملے کے بعد اٹھایا گیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ حملے کے نتیجے میں جہاز کے عملے کا ایک رکن لاپتہ ہو گیا، جبکہ جہاز میں آگ بھڑک اٹھی اور اس کا انجن روم بری طرح متاثر ہوا، جس کے باعث جہاز اپنا سفر جاری رکھنے کے قابل نہیں رہا۔

امریکی حکام کے مطابق ایران کو اس سے قبل بھی تجارتی بحری جہازوں پر حملوں کے بعد اپنے طرزِ عمل میں تبدیلی لانے اور طے شدہ مفاہمتی یادداشت کی پابندی کا موقع دیا گیا تھا، تاہم ان کے بقول ایران نے ایک مرتبہ پھر ان ذمہ داریوں پر عمل نہیں کیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایات کے مطابق کی جا رہی ہیں۔

دوسری جانب برطانیہ کے بحری تجارتی نگرانی کے ادارے نے اطلاع دی ہے کہ عمان کے مشرق میں تقریباً نو بحری میل کے فاصلے پر ایک بحری واقعہ پیش آیا ہے، جس کی تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں۔

ادھر ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے آبنائے ہرمز کو اگلے حکم تک ہر قسم کی بحری آمد و رفت کے لیے بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کا مؤقف ہے کہ ایک بحری جہاز نے مقررہ راستے کے بجائے غیر منظور شدہ گزرگاہ استعمال کرنے کی کوشش کی، جس پر اسے روکنے کے لیے انتباہی فائرنگ کی گئی۔ ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ نئی ہدایات جاری ہونے تک کسی بھی تجارتی یا جنگی بحری جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

بیان میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ اگر کوئی ملک اس واقعے کو بنیاد بنا کر ایران کے خلاف کسی قسم کی فوجی یا اشتعال انگیز کارروائی کرتا ہے تو اسے سخت اور فوری جواب دیا جائے گا۔

دوسری جانب ایران اور امریکا کے ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی، جبکہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر عالمی برادری گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔