حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
پی ٹی آئی میں نئی حکمتِ عملی پر اختلافات؟ عمران خان اور علیمہ خان کے مقدمات کے معاملے پر پارٹی قیادت تقسیم Home / سیاست /

پی ٹی آئی میں نئی حکمتِ عملی پر اختلافات؟ عمران خان اور علیمہ خان کے مقدمات کے معاملے پر پارٹی قیادت تقسیم

ایڈیٹر - 12/07/2026
پی ٹی آئی میں نئی حکمتِ عملی پر اختلافات؟ عمران خان اور علیمہ خان کے مقدمات کے معاملے پر پارٹی قیادت تقسیم

اسلام آباد: پاکستان تحریکِ انصاف کے اندر بانی عمران خان اور ان کی بہن علیمہ خان سے متعلق زیرِ سماعت مقدمات کے حوالے سے ایک نئی حکمتِ عملی پر غور کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، تاہم اس معاملے پر پارٹی کے اندر مختلف آرا سامنے آنے لگی ہیں۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے قانونی کارروائیوں میں ممکنہ تاخیر کے لیے سیاسی رابطے شروع کیے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ انہوں نے اپوزیشن رہنماؤں سے رابطہ کر کے موجودہ مقدمات میں کچھ وقت حاصل کرنے کی کوششوں پر بات چیت کی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بیرسٹر گوہر خان نے قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف علامہ راجا ناصر عباس سے رابطہ کیا۔ اطلاعات کے مطابق ان سے کہا گیا کہ وہ اپنے سیاسی روابط کو استعمال کرتے ہوئے متعلقہ حلقوں تک یہ پیغام پہنچانے کی کوشش کریں کہ زیرِ سماعت مقدمات کو فوری فیصلوں کی جانب نہ لے جایا جائے۔

ذرائع کے مطابق محمود خان اچکزئی سے رانا ثناء اللہ سے رابطے کی درخواست کی گئی، جبکہ علامہ راجا ناصر عباس پہلے ہی ایک وفاقی وزیر سے رابطے میں ہیں جنہیں حکومتی اور مقتدر حلقوں کے قریب سمجھا جاتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی کی توجہ اس وقت دو اہم مقدمات پر مرکوز ہے۔ ان میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی اپیل جبکہ راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں علیمہ خان کے خلاف زیرِ سماعت مقدمہ شامل ہے۔

ذرائع کے مطابق پارٹی کو خاص طور پر علیمہ خان کے مقدمے کے حوالے سے تشویش ہے، جو آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ اگر اس مقدمے میں جلد فیصلہ آ گیا تو ممکنہ سزا کی صورت میں پارٹی کو مزید سیاسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس وقت عمران خان جیل میں ہیں، جبکہ ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور بھانجے بھی مختلف مقدمات کے باعث قید ہیں۔ پارٹی رہنماؤں کا خیال ہے کہ علیمہ خان کے خلاف فیصلہ بھی کارکنوں میں مایوسی پیدا کر سکتا ہے اور تنظیمی مشکلات میں اضافہ کر سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی اسلام آباد ہائی کورٹ میں القادر ٹرسٹ کیس، جسے 190 ملین پاؤنڈ کیس بھی کہا جاتا ہے، میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیل پر فوری پیش رفت سے بھی گریز کی خواہش رکھتی ہے۔

پارٹی کے بعض رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ اپیل کے فوری فیصلے کے بجائے کچھ وقت حاصل کرنا سیاسی اور قانونی طور پر زیادہ فائدہ مند ہو سکتا ہے، کیونکہ منفی عدالتی فیصلے کی صورت میں قانونی راستے محدود ہونے کا خدشہ ہے۔

تاہم پارٹی کے اندر ایک حلقہ اس حکمتِ عملی سے اتفاق نہیں کرتا۔ بعض رہنماؤں کا کہنا ہے کہ سیاسی رابطوں کے ذریعے عدالتی کارروائی میں تاخیر کی کوشش پارٹی کے اس مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتی کہ وہ اپنے مقدمات عدالتوں میں لڑ رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق علیمہ خان بھی مبینہ طور پر اس طریقۂ کار سے مکمل طور پر مطمئن نہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ اگر قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑا تو وہ اس کے لیے تیار ہیں۔ ان کے مطابق عدالتی عمل کو روکنے کے لیے کسی انتظامی کوشش کے بجائے قانونی راستہ اختیار کرنا بہتر ہے۔

رابطہ کرنے پر بیرسٹر گوہر خان نے ان معاملات یا کسی مبینہ حکمتِ عملی پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ صورتحال پی ٹی آئی کے اندر ایک اہم بحث کو ظاہر کرتی ہے کہ پارٹی کو قانونی ریلیف کے لیے سیاسی ذرائع استعمال کرنے چاہئیں یا عدالتی کارروائی کو معمول کے مطابق آگے بڑھنے دینا چاہیے۔