حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
آزاد کشمیر انتخابات پر تحریکِ انصاف میں اختلافات شدت اختیار کر گئے، بائیکاٹ یا انتخابی میدان؟ فیصلہ تاحال نہ ہو سکا Home / سیاست /

آزاد کشمیر انتخابات پر تحریکِ انصاف میں اختلافات شدت اختیار کر گئے، بائیکاٹ یا انتخابی میدان؟ فیصلہ تاحال نہ ہو سکا

ایڈیٹر - 12/07/2026
آزاد کشمیر انتخابات پر تحریکِ انصاف میں اختلافات شدت اختیار کر گئے، بائیکاٹ یا انتخابی میدان؟ فیصلہ تاحال نہ ہو سکا

مظفرآباد: آزاد کشمیر کے عام انتخابات میں حصہ لینے یا بائیکاٹ کرنے کے معاملے پر پاکستان تحریکِ انصاف تاحال کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی، جس کے باعث پارٹی کے اندر غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

ذرائع کے مطابق جماعت کی سیاسی کمیٹی اور آزاد کشمیر کی گورننگ باڈی کے درمیان انتخابات کے حوالے سے اختلافِ رائے اب بھی موجود ہے۔ سیاسی کمیٹی نے بائیکاٹ کے فیصلے پر ایک ہفتے بعد نظرثانی کا اعلان کیا تھا، تاہم مقررہ مدت مکمل ہونے کے باوجود اس مقصد کے لیے کوئی اجلاس منعقد نہیں کیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق آزاد کشمیر کی گورننگ باڈی نے اپنے اجلاس میں اکثریتی رائے کے ساتھ سفارش کی تھی کہ جماعت کو عام انتخابات میں بھرپور حصہ لینا چاہیے، لیکن اس کے باوجود مرکزی سیاسی کمیٹی نے انتخابی بائیکاٹ کا اعلان کر دیا، جس سے کارکنوں اور امیدواروں میں مزید بے یقینی پیدا ہوئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بائیکاٹ کے فیصلے پر جاری ابہام کے باعث پارٹی کے پانچ امیدوار اور چند درخواست گزار جماعت سے علیحدگی اختیار کر چکے ہیں، جبکہ وفاق میں اپوزیشن کی بعض اہم شخصیات نے بھی قیادت کو مشورہ دیا تھا کہ انتخابات کے بائیکاٹ جیسے اہم فیصلے میں جلد بازی سے گریز کیا جائے۔

دوسری جانب آزاد کشمیر میں پاکستان تحریکِ انصاف کے صدر قیوم نیازی کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات شفاف، غیر جانبدار اور پُرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے سازگار نہیں، اسی لیے پارٹی کو تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لینے کے بعد ہی حتمی فیصلہ کرنا چاہیے۔

پارٹی ذرائع کے مطابق اب تمام نظریں سیاسی کمیٹی کے آئندہ اجلاس پر مرکوز ہیں، جہاں یہ طے کیا جائے گا کہ پاکستان تحریکِ انصاف آزاد کشمیر کے عام انتخابات میں حصہ لے گی یا بائیکاٹ کی پالیسی برقرار رکھے گی۔