دوحہ : خلیجی ملک قطر کے سابق امیر اور "فادر امیر" کے لقب سے معروف شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی 74 برس کی عمر میں اتوار 12 جولائی 2026 کو انتقال کر گئے ہیں۔ قطر کے شاہی ایوان (امیری دیوان) نے ایک باضابطہ رنجیدہ بیان جاری کرتے ہوئے ان کی وفات کی تصدیق کی اور کہا کہ پوری قوم اللہ تعالیٰ کے فیصلے اور تقدیر پر کامل ایمان کے ساتھ اس عظیم قومی نقصان پر شدید غمزدہ ہے۔ مرحوم شیخ حمد بن خلیفہ کو جدید قطر کا حقیقی معمار مانا جاتا ہے، جنہوں نے اپنے 18 سالہ دورِ حکومت میں ملک کی تقدیر بدل کر اسے عالمی سطح پر ایک بااثر اور مضبوط ترین ریاست بنایا۔
سفارتی تاریخ کے مطابق، شیخ حمد نے 1995 سے 2013 تک قطر پر حکمرانی کی، جس کے بعد انہوں نے عرب دنیا کی تاریخ میں ایک منفرد مثال قائم کرتے ہوئے رضاکارانہ طور پر اقتدار اپنے صاحبزادے اور موجودہ امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے سپرد کر دیا تھا۔ ان کے شاندار اور انقلابی دورِ حکومت میں قطر مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی پیداوار اور برآمدات کا سب سے بڑا عالمی مرکز بن کر ابھرا، جس نے ملک کو دنیا کے امیر ترین ممالک کی صف میں لا کھڑا کیا۔ کھیلوں کے میدان میں ان کی سب سے بڑی تاریخی کامیابی قطر کے لیے 2022 کے فیفا فٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی حاصل کرنا تھی۔ اس کے علاوہ میڈیا انڈسٹری میں ان کا قائم کردہ نیٹ ورک الجزیرہ عرب اور بین الاقوامی میڈیا کا منظرنامہ بدلنے کا سبب بنا۔
بین الاقوامی سفارت کاری میں انہوں نے قطر کو ایک فعال ثالث کے طور پر متعارف کرایا، جہاں قطر نے افغانستان، لبنان، اور فلسطین جیسے پیچیدہ علاقائی تنازعات کو حل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اگرچہ ان کی بعض آزاد خارجہ پالیسیوں، اخوان المسلمون اور حماس کے ساتھ تعلقات کے باعث پڑوسی عرب ممالک اور مغربی اتحادیوں کے ساتھ سفارتی اختلافات بھی سامنے آئے، تاہم ان کی زبردست معاشی اور جیو پولیٹیکل حکمتِ عملی کی بدولت قطر آج عالمی سیاست، فضائی سفر (قطر ایئرویز) اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کا ایک بے مثال نمونہ بن چکا ہے۔ ان کے انتقال پر عالمی رہنماؤں اور پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے بھی گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے