حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
آبنائے ہرمز پر ایران کا بڑا اعلان، عالمی بحری آمد و رفت روکنے کا دعویٰ، خطے میں نئی تشویش Home / بین الاقوامی /

آبنائے ہرمز پر ایران کا بڑا اعلان، عالمی بحری آمد و رفت روکنے کا دعویٰ، خطے میں نئی تشویش

ایڈیٹر - 12/07/2026
آبنائے ہرمز پر ایران کا بڑا اعلان، عالمی بحری آمد و رفت روکنے کا دعویٰ، خطے میں نئی تشویش

تہران: ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بیرونی طاقتوں کی سرگرمیوں کے باعث آبنائے ہرمز کو آئندہ حکم تک ہر قسم کی بحری نقل و حرکت کے لیے بند کر دیا گیا ہے، جس کے بعد عالمی سطح پر تشویش کی نئی لہر دوڑ گئی ہے۔

ایرانی فوج کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے ایک بحری جہاز کو اس وقت روک دیا گیا جب وہ مقررہ بحری راستے کے بجائے ایک ایسے راستے کی طرف بڑھ رہا تھا جس کی اجازت نہیں تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ جہاز کو خبردار کرنے کے لیے انتباہی فائرنگ کی گئی، جس کے بعد اس نے اپنی پیش قدمی روک دی۔

پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ خطے میں بیرونی مداخلت کے باعث پیدا ہونے والے سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ جب تک امریکا کی مداخلت ختم نہیں ہوتی، اس اہم سمندری گزرگاہ سے کسی بھی تجارتی یا جنگی جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

دوسری جانب برطانیہ کے بحری تجارتی نگرانی کے ادارے نے اطلاع دی ہے کہ عمان کے مشرقی ساحل کے قریب ایک بڑے مال بردار جہاز میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا ہے، جس سے جہاز کو نقصان پہنچا۔ تاہم تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا یہی وہ جہاز تھا جسے ایران نے روکا تھا یا یہ ایک الگ واقعہ ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مختلف ممالک کی سفارتی کوششیں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے جاری تھیں۔ چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی عندیہ دیا تھا کہ کشیدگی اور حملوں کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کے امکانات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔

آبنائے ہرمز کو دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ عالمی منڈیوں تک پہنچنے والے خام تیل کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اسی وجہ سے یہاں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کے عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ادھر ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے حالیہ دنوں عمان کے وزیرِ خارجہ سے بھی ملاقات کی تھی، جس میں خطے کی صورتحال اور بحری آمد و رفت سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق عمان کی جانب سے عارضی طور پر جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت کے لیے متبادل بحری راستوں کی تجویز بھی زیر غور تھی، تاہم موجودہ صورتحال کے بعد اس منصوبے کا مستقبل غیر یقینی دکھائی دے رہا ہے۔ دوسری طرف امریکی حکام پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ جب تک آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کی مکمل یقین دہانی نہیں کرائی جاتی، ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ مذاکرات میں پیش رفت مشکل ہوگی۔