طورخم : پاک افغان طورخم بارڈر کی طویل بندش کے باعث پڑوسی ملک افغانستان میں پھنسے ہوئے 70 پاکستانی طلباء بالآخر سخت مشکلات اور طویل انتظار کے بعد بحفاظت پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ طلباء گزشتہ کئی ماہ سے افغانستان میں محصور تھے اور گزشتہ تین روز سے طورخم سرحد پر پھنسے ہوئے تھے، جہاں سفارتی اور سیاسی کوششوں کے بعد انہیں سرحد عبور کر کے اپنے گھروں کو روانگی کی اجازت دی گئی۔
عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) ضلع خیبر کے سینئر نائب صدر حاجی شیریں خان آفریدی کی خصوصی اور انتھک کوششوں کے نتیجے میں ان متاثرہ طلباء کو بارڈر پاس کرایا گیا۔ اس اہم موقع پر حاجی شیریں خان آفریدی اور شبیر آفریدی نے خود طورخم بارڈر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وطن واپس پہنچنے والے طلباء کا پرجوش استقبال کیا اور ان کے گھروں کو بحفاظت روانگی کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔
طلباء کی آمد کے موقع پر سیکیورٹی حکام نے بھی بھرپور تعاون کا مظاہرہ کیا۔ ونگ کمانڈر کرنل وقاص نے فوری طور پر طورخم سرحد پر پہنچ کر طلباء کے لیے کھانے پینے کے اشیاء اور دیگر ضروری طبی و سفری سہولیات کا ہنگامی انتظام کیا۔ تمام تر ضروری قانونی اور طبی اسکریننگ کے مراحل مکمل ہونے کے بعد تمام طلباء کو انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کے تحت ان کے آبائی گھروں کی جانب روانہ کر دیا گیا ہے، جس پر طلباء اور ان کے اہلخانہ نے گہرے سکون اور خوشی کا اظہار کیا ہے۔