اسلام آباد : وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی جانب سے ملک بھر کے مختلف ایئرپورٹس پر امیگریشن اور سیکیورٹی اسکروٹنی کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور چشم کشا رپورٹ جاری کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، گزشتہ تین سالوں کے دوران سخت سفری قوانین اور دستاویزات کی نامکمل جانچ پڑتال کے باعث مجموعی طور پر 39 ہزار 786 مسافروں کو پروازوں سے آف لوڈ کیا گیا ہے۔ اس اہم انکشاف نے ایئرپورٹس پر تعینات امیگریشن عملے کی سخت مانیٹرنگ اور ملکی قوانین کے نفاذ کی رفتار کو واضح کیا ہے۔
رپورٹ کی تفصیلات بتاتی ہیں کہ ایف آئی اے کے مروجہ طریقہ کار اور اسکروٹنی کے عمل کے دوران مختلف بین الاقوامی ایئرپورٹس سے ان ہزاروں شہریوں کو سفر کرنے سے روکا گیا۔ تادیبی اور احتیاطی کارروائیوں کی بڑی وجوہات میں ناقص یا نامکمل سفری دستاویزات کا ہونا شامل ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ آف لوڈ کیے جانے والے کل مسافروں میں سے 20 ہزار 408 شہریوں کو صرف اس وجہ سے بیرون ملک جانے کی اجازت نہیں دی گئی کیونکہ ان کے پاس مطلوبہ اور ضروری قانونی دستاویزات موجود نہیں تھیں۔
ایف آئی اے کے حکام کا کہنا ہے کہ ایئرپورٹس پر اسکروٹنی کا یہ سخت عمل انسانی اسمگلنگ، جعلی دستاویزات پر سفر کی روک تھام اور بین الاقوامی ہوائی سفر کے قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔ ایجنسی کی جانب سے شہریوں کو سخت ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی بین الاقوامی سفر پر روانہ ہونے سے قبل اپنی ویزا دستاویزات، پاسپورٹ کی مدت اور دیگر ضروری کاغذات کی مکمل تصدیق کر لیں تاکہ ایئرپورٹ پر کسی بھی قسم کی پریشانی یا آف لوڈنگ کے تادیبی عمل سے بچا جا سکے۔