حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
پی ٹی آئی ایم پی اے عبدالغنی نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو ان کے بھائی کیخلاف خط لکھ دیا۔ Home / سیاست /

پی ٹی آئی ایم پی اے عبدالغنی نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو ان کے بھائی کیخلاف خط لکھ دیا۔

ایڈیٹر - 12/07/2026
پی ٹی آئی ایم پی اے عبدالغنی نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو ان کے بھائی کیخلاف خط لکھ دیا۔

پشاور / ضلع خیبر:
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندرونی تنظیمی اور حکومتی معاملات میں اختلافات اس وقت سنگین صورتحال اختیار کر گئے جب ضلع خیبر سے رکن صوبائی اسمبلی عبدالغنی آفریدی نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو ایک باضابطہ اور سخت گیر خط ارسال کیا۔ اس مراسلے میں حلقہ پی کے 71 میں وزیراعلیٰ کے بھائی نوید آفریدی کی مبینہ سیاسی اور انتظامی مداخلت پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ ایم پی اے عبدالغنی آفریدی نے اس اہم خط کی کاپی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ 'ایکس' (سابقہ ٹوئٹر) پر بھی پبلک کر دی ہے، جس کے بعد صوبائی سیاست میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

خط میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ کے بھائی نوید آفریدی حلقہ پی کے 71 میں غیر قانونی طور پر کھلی کچہریوں کا انعقاد کر رہے ہیں اور سرکاری محکموں کے افسران کو ان میں شرکت کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔ رکن صوبائی اسمبلی نے سنگین الزام عائد کیا ہے کہ جو سرکاری افسران ان کچہریوں میں شرکت سے انکار کرتے ہیں، انہیں فوری تبادلوں اور تادیبی کارروائیوں کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ عبدالغنی آفریدی کے مطابق، اس مبینہ مداخلت اور متوازی طرزِ حکومت سے ایک منتخب عوامی نمائندے کے طور پر ان کا سیاسی وقار اور حلقے کے عوام کا اعتماد بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔

مراسلے میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ اس سے قبل بھی متعدد بار یہ معاملہ خود وزیراعلیٰ کے سامنے اٹھایا گیا اور صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کے ذریعے بھی باقاعدہ شکایات پہنچائی گئیں، تاہم تاحال کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ ایم پی اے نے ضلعی انتظامیہ اور بعض مخصوص سرکاری افسران کے جانبدانہ کردار پر بھی گہرے سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے خاندانی ارکان کی سیاسی و انتظامی مداخلت کا فوری نوٹس لیں، شفاف تحقیقات کرائیں اور بیوروکریسی کو دباؤ میں لانے والے عناصر کے خلاف کارروائی کریں۔ عبدالغنی آفریدی نے انتباہ کیا ہے کہ اگر یہ سلسلہ فوری طور پر بند نہ ہوا تو وہ اگلے مرحلے میں سخت قانونی اور سیاسی اقدامات اٹھانے پر مجبور ہوں گے۔