اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژنل بینچ نے جعلی تعلیمی اسناد کی بنیاد پر سرکاری ملازمت حاصل کرنے والے گریڈ 19 کے افسر وسیم افضل وڑائچ کی انٹرا کورٹ اپیل مسترد کرتے ہوئے ان کے خلاف جاری کارروائی کو برقرار رکھا، جس کے بعد انہیں سرکاری ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔
یکم جولائی 2026 کو جاری ہونے والے تفصیلی فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ وسیم افضل وڑائچ نے بی اے اور ایم بی اے کی ڈگریاں جعلسازی اور دھوکا دہی کے ذریعے حاصل کیں، اس لیے وہ سرکاری عہدے کے اہل نہیں رہے۔
عدالت نے حکم دیا کہ ملازمت کے دوران وصول کی گئی تمام تنخواہیں اور دیگر مالی مراعات واپس لی جائیں، جبکہ معاملے میں فوجداری کارروائی کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے کو بھی قانونی اقدامات کی ہدایت کی گئی۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق وسیم افضل وڑائچ نے 1993 میں مبینہ جعلی ڈگری کی بنیاد پر ایس ایم ای بینک میں ملازمت حاصل کی تھی، جہاں وہ 2009 میں گولڈن ہینڈ شیک اسکیم کے تحت ادارے سے علیحدہ ہوئے۔
بعد ازاں انہوں نے 2011 میں انہی تعلیمی اسناد کی بنیاد پر وزارتِ محنت و افرادی قوت میں گریڈ 19 کی سرکاری ملازمت حاصل کی۔ تاہم 2017 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کی ڈگریوں کو جعلی قرار دیتے ہوئے ملازمت ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔
عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کرتے ہوئے وزارتِ اوورسیز پاکستانیز نے وسیم افضل وڑائچ کی برطرفی، مالی مراعات کی واپسی اور متعلقہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ وزارت نے وفاقی تحقیقاتی ادارے کو بھی ہدایت کی ہے کہ معاملے کی روشنی میں قانونی کارروائی آگے بڑھائی جائے۔