باجوڑ : مولانا خان زیب شہید کی پہلی برسی پوری عقیدت کے ساتھ باجوڑ سپورٹس کمپلیکس میں منائی گئی۔باجوڑ سے وزیر ستان تک اور پورے صوبے میں جاری بد امنی پر تشویش کا اظہار۔باجوڑ سے تعلق رکھنے والے سیاسی، سماجی اور علمی و ادبی شخصیت مولانا خانزیب شہید کا ایک سال پورا ہوگیا۔ جس سلسلے میں ان کی برسی کا انعقاد باجوڑ سپورٹس کمپلیکس میں ہوا۔ برسی کی باقاعدہ افتتاح سے پہلے مولانا خانزیب شہید کی ایصال ثواب اور بلندی درجات کے لیے قران خوانی اور دعا کا اہتمام کیا گیا۔تقریب میں اے این پی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین، جنرل سیکرٹری حسین شاہ یوسفزئی، سابقہ ایم پی اے بہادر خان، ایم پی اے نثار باز، اے این پی سنٹرل ورکنگ کمیٹی کے ممبر شیخ جہانزادہ، ضلعی صدر گل افضل خان، جنرل سیکرٹری شاہ نصیر خان اور کثیر تعداد میں عوام اور پارٹی کارکنان نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اے این پی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے کہا کہ آج سوات میں حملے کون کررہا ہے، کون سوات میں گھروں میں گھس رہے ہیں؟ اور یہاں کون آپ کو مار رہا ہے؟ اور یہی پورے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حالت ہے۔ یہ کہتے ہیں یہاں نقل مکانی کرو۔ ہم کئی بار نقل مکانی کی، ہمارے سکول اڑائے گئے، مدرسے اڑائے گئے۔ مساجد شہید کردیے گئے۔ آج میں اپنے ہی وطن میں یرغمال بن گیا ہوں۔ ہمیں آپ کی سازشوں کی کوئی پرواہ نہیں، آپ کی بدمعاشیوں سے ہم نہیں ڈرتے۔ ہم آواز اٹھاتے رہیں گے۔ برسی سے خطاب کرتے ہوئے ایم پی اے نثار باز نے کہا کہ نوے ہزار سے زیادہ پختونوں جبکہ ان بارہ سو سے زیادہ عمائدین اور رہنماوں کو شہید کردیا گیا۔ باجوڑ میں اس دن سے شروع کیا گیا جب 2005 میں میاں شاہجہان کو شہید کردیا گیا اور یہ سلسلہ چلتا چلتا عبدالرازق شہید تک پہنچ گیا۔ اس کے علاوہ عمائدین، علماء کرام اور سیاسی کارکنوں کو نشانہ بنایا گیا۔ تقریب میں شہید مولانا خان زیب کے خدمات کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ پہلی برسی کے موقع پر شہید مولانا خان زیب کی کتاب متبادل بیانیہ کی تقریب رونمائی بھی ہوئی۔برسی تقریب کیلئے ضلعی انتظامیہ اور باجوڑ پولیس نے سخت حفاظتی انتظامات کر رکھے تھے۔تقریب کے موقع پر اے این پی سنٹرل ورکنگ کمیٹی کے رکن اور شہید مولانا خان زیب کے بڑے بھائی شیخ جہانزادہ نے اعلامیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ وطن کے شہداء اور غازیوں کے ساتھ مولانا خانزیب اس وطن کا ملی شہید اور قوم کا اثاثہ ہے، ضروری ہے کہ ان کا علمی ادبی قومی او سیاسی جدوجہد کی تسلسل جاری رکھی جائے اور آنے والے نسلوں تک ان کی فکر و عمل اور ان کی تعلیمات پہنچائے جائے تاکہ اجتماعی شعور بیدار ہوکر علاقہ امن کا گہوارہ بن جائے۔ اور یوں یہاں بھائی چارے، ترقی اور قومی وحدت کو فروغ ملے۔ باجوڑ سے وزیر ستان تک اور پورے صوبے میں جاری بد امنی پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ صوبائی حکومت اور دیگر ذمہ دار اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ امن کے بحالی میں اپنی ذمہ داری بطریق احسن پوری کریں۔ متفقہ نیشنل ایکشن پلان پر حرف بہ حرف عمل دارآمد یقینی بنایا جائے۔ افغانستان کے اندرونی روایتی لویہ جرگہ کے ذریعے ملی مفاہمت کا مطالبہ کرتے ہیں۔ عالمی جنگی قوتیں مزید اس علاقے کا رخ نہ کریں۔ پاکستان اور افغانستان اپنے مسائل اور مہاجرین کے انخلاء کے لیے افہام و تفہیم اور سیاسی مذاکرات کا راستہ اپنائیں اور یوں اپنے مسائل حل کریں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ناوا پاس ، غاخی پاس، کگہ کنڈاو، لیٹء کنڈاؤ اور اسی طرح مہمند گھوسلء کنڈاؤ اور چترال سے لیکر چمن تک جتنے بند تاریخی راستے ہیں۔ اسے لوگوں کی آمدورفت اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے کھول دئیے جائیں۔ ضم شدہ قبائیلی اضلاع کے ساتھ پچیسویں آئینی ترمیم میں کئے گئے وعدے جلد از جلد ایفا کئے جائیں۔ اور قبائیلی ضم شدہ اضلاع اور ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس لگانے کا فیصلہ واپس لیا جائے۔ بلکہ مذکورہ اضلاع کو مزید سہولیات اور پیکیچز دیے جائیں۔ اسی طرح مولانا خانزیب شہید کے شہادت کے تحقیقات کے لیے وزیر اعظم کے تحقیقی و تفتیشی کمیشن کو جلد از جلد عملی شکل دی جائے۔ لاپتہ افراد اور ان کے خاندانوں کے مسائل فوری طور پر حل کئے جائیں۔باجوڑ تا وزیرستان اور تمام ضم اضلاع میں انٹرنیٹ کی سہولیات جلد از جلد بحال کی جائیں۔ پہاڑوں میں معدنیات اور دیگر قیمتی دھاتوں وغیرہ کے لیے باقاعدہ سائنٹیفک سروے کی جائے۔ اور معدنیات قوم کی جرگوں کے مشورے سے نکالے جائیں۔ پچھلے دہائیوں کی بدامنی سے تباہ ہونے والے لوئی سم بازار عنایت کلے بازار میں دکانوں اور لوگوں کے مسمارشدہ گھروں کے معاوضے فوری طور جاری کردی جائیں۔ بلاک شدہ شناختی کارڈز کو فوری طور ان بلاک کردیا جائے۔ صوبائی حکومت پی کے 22 کے عوام کی رائے کی قدر کرتے ہوئے، منتخب نمائندہ نثار باز کو ترقیاتی کاموں کے لیے جلد از جلد فنڈز کا اجراء یقینی بنائیں۔ یہ جرگہ وطن کے ہر فرد سے امن کی اپیل کرتا ہے۔ ائیں مولانا خانزیب شہید کے پیغام اور ان کی جدوجہد کے تسلسل کے لیے ہم آواز بنیں اور یہاں پر امن کی فضاء قایم کریں۔ ہم ان کے علمی ادبی، سیاسی سماجی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ان کی ہمہ جہت شخصیت اور ہمہ جہت کارنامے ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔