مشہد: ایرانی سرکاری اور مقامی ذرائع کے مطابق سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ مشہد میں ادا کرنے کے بعد انہیں روضۂ امام رضا کے احاطے میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ نمازِ جنازہ مرحوم رہنما کے بڑے صاحبزادے مصطفیٰ خامنہ ای کی امامت میں ادا کی گئی، جبکہ تدفین ان کی وصیت اور اہلِ خانہ کی مشاورت کے مطابق مشہد میں روضۂ امام رضا کے قریب عمل میں آئی۔
ایرانی ذرائع کے مطابق نمازِ جنازہ میں بڑی تعداد میں سوگوار شریک ہوئے۔ اس موقع پر ایرانی پرچموں کے ساتھ مختلف مذہبی پرچم بھی لہرائے گئے، جبکہ بعض شرکا نے پاکستان کے پرچم بھی اٹھا رکھے تھے۔ اطلاعات کے مطابق اجتماع کے دوران مختلف نعرے بھی لگائے گئے۔
رپورٹس کے مطابق آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی میت گزشتہ چند روز کے دوران ایران اور عراق کے متعدد مقدس شہروں میں لے جائی گئی، جہاں تعزیتی اجتماعات، نمازِ جنازہ اور خراجِ عقیدت کی تقریبات منعقد ہوئیں۔
ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ نجف اور کربلا میں بھی آخری مذہبی رسومات ادا کی گئیں، جس کے بعد خصوصی طیارے کے ذریعے جسدِ خاکی کو مشہد منتقل کیا گیا، جہاں سرکاری اور مذہبی اعزاز کے ساتھ تدفین کی گئی۔
آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے دفتر سے وابستہ حکام کے مطابق مرحوم رہنما نے اپنی زندگی میں مشہد میں تدفین کی خواہش ظاہر کی تھی اور وصیت کی تھی کہ انہیں روضۂ امام رضا کے قریب سپردِ خاک کیا جائے۔
ایرانی میڈیا نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ گزشتہ کئی روز تک جاری رہنے والی تعزیتی تقریبات میں ایران اور عراق کے مختلف شہروں میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ تاہم بعض اجتماعات میں شریک افراد کی تعداد کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
رپورٹس کے مطابق تہران، قم، نجف، کربلا اور دیگر شہروں میں مرحلہ وار الوداعی تقریبات کے بعد مشہد میں تدفین کے ساتھ آخری رسومات مکمل ہو گئیں۔