اسلام آباد: نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے ملک بھر کی اہم موٹرویز، قومی شاہراہوں اور ایکسپریس ویز پر ٹول ٹیکس میں اضافہ کرتے ہوئے نئے کرایہ نامے کا باضابطہ نفاذ کر دیا ہے۔ جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق نظرثانی شدہ فیس فوری طور پر لاگو ہو گئی ہے اور تمام ٹول پلازوں پر نئی شرح کے مطابق وصولی شروع کر دی گئی ہے۔
اتھارٹی کے مطابق نئے نرخ موٹروے ایم ون، ایم تھری، ایم فور، ایم فائیو، ایم فورٹین، ہزارہ ایکسپریس وے (ای تھرٹی فائیو)، کوہاٹ ٹنل اور اسلام آباد، مری دو رویہ شاہراہ سمیت متعدد اہم شاہراہوں پر نافذ کیے گئے ہیں۔ ان کا اطلاق کاروں، ویگنوں، منی بسوں، بسوں، دو اور تین ایکسل ٹرکوں کے علاوہ بھاری مال بردار گاڑیوں پر بھی ہوگا۔
نظرثانی شدہ نرخوں کے تحت قومی شاہراہوں پر کار کا ٹول ٹیکس 100 روپے، ویگن کا 200 روپے اور بس کا 300 روپے مقرر کیا گیا ہے۔
اسی طرح لاہور تا عبدالحکیم موٹروے پر کار چلانے والوں کو 1000 روپے ادا کرنا ہوں گے، جبکہ ویگن کے لیے 1500 روپے، منی بس کے لیے 2200 روپے اور بس کے لیے 3150 روپے ٹول فیس مقرر کی گئی ہے۔
پنڈی بھٹیاں تا ملتان موٹروے استعمال کرنے والی کاروں سے 1350 روپے وصول کیے جائیں گے، جبکہ ویگن کا ٹول 1950 روپے، منی بس کا 2900 روپے اور بس کا 4050 روپے مقرر کیا گیا ہے۔
ادھر ملتان تا سکھر موٹروے پر کار کا ٹول ٹیکس 1500 روپے کر دیا گیا ہے۔ ویگن کے لیے 2200 روپے، منی بس کے لیے 3250 روپے اور بس کے لیے 4600 روپے ادا کرنا ہوں گے۔
نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ تمام متعلقہ ٹول پلازوں پر نئی فیس کا اطلاق ہو چکا ہے اور مسافروں سے نظرثانی شدہ نرخوں کے مطابق ٹول وصول کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل اتھارٹی نے مارچ 2025 میں ٹول ٹیکس کی شرحوں پر نظرثانی کرتے ہوئے یکم اپریل 2025 سے نئے نرخ نافذ کیے تھے، جن کے تحت قومی شاہراہوں پر کار کا ٹول 70 روپے، ویگن کا 150 روپے اور بس کا 250 روپے مقرر کیا گیا تھا، جبکہ بعض مخصوص شاہراہوں اور راستوں کے لیے الگ فیس مقرر تھی۔