اسلام آباد: پاکستان نے خطے میں ایک بار پھر بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور تنازع کو مزید بڑھانے کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے حل کی جانب پیش رفت کریں۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں کسی نئی محاذ آرائی کا آغاز نہ صرف متعلقہ ممالک بلکہ پورے خطے کے امن اور استحکام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان نے تمام فریقوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے اجتناب کریں جو کشیدگی میں مزید اضافے کا سبب بنیں۔
بیان میں کہا گیا کہ پائیدار امن، باہمی اعتماد اور علاقائی استحکام کے حصول کے لیے مسلسل رابطے، بامعنی مذاکرات اور مؤثر سفارت کاری ہی قابلِ عمل راستہ ہیں، جبکہ تصادم کسی مسئلے کا دیرپا حل نہیں۔
دفتر خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکا اور ایران اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت کیے گئے اپنے وعدوں اور ذمہ داریوں کی مکمل پاسداری کریں۔ بیان کے مطابق یہ مفاہمتی فریم ورک باہمی احترام، اعتماد، افہام و تفہیم اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے اہم بنیاد فراہم کرتا ہے۔
پاکستان نے ایک مرتبہ پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ خطے میں امن، استحکام اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے اپنا مثبت اور تعمیری کردار جاری رکھے گا اور ہر ممکن سفارتی تعاون فراہم کرے گا۔
دفتر خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز سے ملحقہ علاقوں میں تازہ فوجی کارروائیوں اور جوابی حملوں کی اطلاعات نے خطے میں تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکیہ میں جاری نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت قائم جنگ بندی اب مؤثر نہیں رہی۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے تمام متعلقہ فریقوں سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے، اشتعال انگیز اقدامات سے گریز کرنے اور فوری طور پر مذاکرات کا عمل بحال کرنے کی اپیل کی ہے۔
سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفان دوجارک کے مطابق عالمی ادارہ تمام فریقوں پر زور دے رہا ہے کہ وہ صورت حال کو مزید بگاڑنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے اور امن کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کریں۔