مشہد: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے جسدِ خاکی کو عراق کے مقدس شہر نجف سے ایران کے شہر مشہد منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں آج سرکاری اور مذہبی اعزاز کے ساتھ ان کی تدفین کی جائے گی۔
ایرانی ذرائع کے مطابق مرحوم رہنما کی آخری رسومات گزشتہ چھ روز سے ایران اور عراق کے مختلف مقدس مقامات پر جاری تھیں۔ نجف، کربلا اور دیگر شہروں میں تعزیتی اجتماعات، نمازِ جنازہ اور عقیدت کے مختلف مراحل مکمل ہونے کے بعد تابوت کو مشہد روانہ کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہش تھی کہ انہیں مشہد میں حضرت امام رضاؓ کے روضۂ مبارک کے قریب سپردِ خاک کیا جائے۔ ان کے دفتر کے سربراہ محمد محمدی گلپایگانی نے بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مرحوم نے اپنی زندگی میں اسی مقام پر تدفین کی وصیت کی تھی۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ نجف اور کربلا میں منعقد ہونے والی آخری رسومات میں بڑی تعداد میں عقیدت مندوں نے شرکت کی اور اپنے محبوب رہنما کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ حکام کے مطابق دونوں ممالک میں یہ تمام مراحل انتہائی احترام اور مذہبی عقیدت کے ماحول میں انجام دیے گئے۔
اس سے قبل نجف میں حضرت علیؓ کے روضۂ مبارک پر نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جس کے بعد جسدِ خاکی کو کربلا منتقل کیا گیا، جہاں حضرت امام حسینؓ کے روضۂ مبارک پر بھی نمازِ جنازہ اور دیگر مذہبی رسومات ادا کی گئیں۔
ایرانی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ کربلا میں نکالے گئے جنازے کے جلوس میں لاکھوں افراد شریک ہوئے، جبکہ روضۂ امام حسینؓ پر پوری رات فاتحہ خوانی، نوحہ خوانی اور مرثیہ خوانی کا سلسلہ جاری رہا۔ تاہم جلوس میں شریک افراد کی تعداد کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
آج مشہد میں حضرت امام رضاؓ کے روضۂ مبارک کے احاطے میں سرکاری اعزاز کے ساتھ تدفین کی جائے گی۔ اس موقع پر ایران کے مختلف شہروں سے زائرین اور سوگواروں کی بڑی تعداد مشہد پہنچ رہی ہے، جبکہ سیکیورٹی کے بھی غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔