حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
ٹرمپ کا چونکا دینے والا دعویٰ، "میں ایران کا پہلا ہدف ہوں، شائد میں زندہ نہ رہوں" Home / بین الاقوامی /

ٹرمپ کا چونکا دینے والا دعویٰ، "میں ایران کا پہلا ہدف ہوں، شائد میں زندہ نہ رہوں"

ایڈیٹر - 09/07/2026
ٹرمپ کا چونکا دینے والا دعویٰ،

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران انہیں اپنا اولین ہدف سمجھتا ہے، تاہم انہوں نے اس مؤقف کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ امریکی مفادات اور عالمی سلامتی کے لیے وہی فیصلے کر رہے ہیں جنہیں وہ درست سمجھتے ہیں، اسی وجہ سے تہران انہیں نشانہ بنانا چاہتا ہے۔

ترکیہ میں منعقدہ نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی قیادت بار بار تبدیل ہوئی ہے اور اگر اس کی پالیسیوں میں تبدیلی نہ آئی تو مستقبل میں بھی اس کے حکمران مشکلات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔

امریکی صدر نے کہا کہ وہ ایران کی مبینہ ہدفی فہرست میں سرفہرست ہیں اور یہ بات مختلف حلقوں میں زیرِ بحث ہے، تاہم انہوں نے اس دعوے کی تائید میں کوئی دستاویزی ثبوت یا انٹیلی جنس معلومات فراہم نہیں کیں۔

ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے ایران کا طرزِ عمل تبدیل نہیں ہوا، جبکہ وہ ایسے فیصلے کر رہے ہیں جنہیں وہ امریکا اور دنیا کے وسیع تر مفاد میں سمجھتے ہیں۔ انہوں نے ایران کی جانب سے مبینہ طور پر ان کے قتل کی منصوبہ بندی کا بھی ذکر کیا، تاہم اس بارے میں بھی کوئی نئی تفصیل سامنے نہیں آئی۔

اسی پریس کانفرنس میں جب ان سے پوچھا گیا کہ نیٹو اجلاس سے واپسی پر انہوں نے قطر کی جانب سے تحفے میں ملنے والے نئے صدارتی طیارے کے بجائے پرانے ایئر فورس ون کو کیوں ترجیح دی، تو ٹرمپ نے بتایا کہ نیا طیارہ برطانیہ کے ملڈن ہال فضائی اڈے بھیجا گیا تھا تاکہ وہاں موجود امریکی فوجی اہلکار اس کا معائنہ کر سکیں۔

ان کے مطابق فوجیوں کی خواہش تھی کہ وہ اس جدید طیارے کو قریب سے دیکھیں، اس لیے فیصلہ کیا گیا کہ ترکیہ سے واپسی کا سفر روایتی صدارتی طیارے کے ذریعے کیا جائے۔

ادھر نئے طیارے کے استعمال سے گریز پر مختلف قیاس آرائیاں بھی سامنے آئیں۔ بعض اطلاعات میں کہا گیا کہ طیارے میں ابھی تک وہ تمام حفاظتی اور مواصلاتی سہولیات موجود نہیں جو روایتی صدارتی طیارے کا حصہ ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکی خفیہ ادارے کی سفارش پر احتیاطی تدابیر کے طور پر پرانے صدارتی طیارے کو استعمال کیا گیا، تاہم حکام نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ کسی مخصوص یا فوری خطرے کی بنیاد پر نہیں تھا۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ سفر کے دوران صحافیوں کو طیارے کی کھڑکیوں کے پردے بند رکھنے کی ہدایت دی گئی، لیکن اس کی سرکاری وجہ نہیں بتائی گئی۔

یاد رہے کہ قطر کے شاہی خاندان نے گزشتہ برس بوئنگ سات سو سینتالیس آٹھ طیارہ بطور تحفہ فراہم کیا تھا، جسے امریکی صدارتی معیار کے مطابق جدید حفاظتی نظام سے آراستہ کیا گیا۔ یکم جولائی کو یہ طیارہ پہلی مرتبہ صدر ٹرمپ کے ہمراہ غیر ملکی دورے پر استعمال ہوا، جبکہ اس کی بیرونی رنگت بھی تبدیل کرکے سرخ، سفید اور گہرے نیلے رنگوں پر مشتمل نئی ترتیب دی گئی۔

دوسری جانب قطر کی جانب سے اتنی بڑی مالیت کا طیارہ بطور تحفہ قبول کیے جانے پر امریکا کے بعض سیاسی اور قانونی حلقوں نے اخلاقی، آئینی اور سیکیورٹی حوالے سے سوالات بھی اٹھائے ہیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ نئے سرکاری صدارتی طیاروں کی تیاری اور فراہمی میں تاخیر کے باعث موجودہ بیڑا بدستور استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ مکمل طور پر نئے سرکاری صدارتی طیاروں کی فراہمی رواں دہائی کے اختتامی برسوں تک متوقع ہے۔