اسلام آباد میں جاری ہونے والی آڈیٹر جنرل پاکستان کی تازہ آڈٹ رپورٹ میں وزارتِ آبی وسائل اور اس کے ماتحت اداروں میں مالی سال 2024-25 کے دوران سات ارب دو کروڑ روپے سے زائد مالیت کی مالی بے ضابطگیوں اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیوں کا انکشاف سامنے آیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق آڈٹ کے دوران وزارتِ آبی وسائل کے ایک سو بارہ انتظامی یونٹس کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس میں سینکڑوں ارب روپے کے سرکاری اخراجات اور وصولیوں کی جانچ پڑتال کی گئی۔ آڈٹ کے دوران متعدد مالی معاملات میں قواعد کی خلاف ورزی، کمزور نگرانی اور انتظامی خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔
آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق نشاندہی کی گئی بے ضابطگیوں کے مقابلے میں سال بھر کے دوران انتہائی معمولی رقم کی وصولی ممکن ہو سکی، جس سے مالی نگرانی کے نظام کی مؤثریت پر بھی سوالات اٹھ گئے ہیں۔
رپورٹ میں وزارتِ آبی وسائل کے داخلی کنٹرول کے نظام کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سرکاری خریداری کے قواعد کی مختلف سطحوں پر خلاف ورزیاں سامنے آئیں، جبکہ متعدد معاملات میں انتظامی نگرانی اور احتساب کا نظام بھی کمزور پایا گیا۔ ان بے ضابطگیوں میں واپڈا سمیت وزارت کے ماتحت مختلف اداروں کے مالی اور انتظامی امور بھی شامل ہیں۔
آڈیٹر جنرل نے اپنی رپورٹ میں بے ضابطگیوں کو ادارہ جاتی کمزوریوں کی مختلف اقسام میں تقسیم کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سب سے زیادہ مسائل مالیاتی نظم و نسق اور مالی انتظام کے شعبے میں سامنے آئے، جس کے باعث قومی خزانے کو ممکنہ نقصان پہنچنے کے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔
رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ ذمہ دار افراد کے خلاف قواعد کے مطابق کارروائی کی جائے، داخلی نگرانی کے نظام کو مضبوط بنایا جائے اور مالی معاملات میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے مؤثر اصلاحات نافذ کی جائیں۔