امریکا کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں اور ایرانی تیل کی فروخت پر دوبارہ پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد خطے میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے بحرین اور کویت میں قائم امریکی فوجی تنصیبات پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے بعد دونوں ممالک میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق حملوں کے فوراً بعد بحرین اور کویت میں خطرے کے سائرن بج اٹھے، جبکہ کویتی حکام کا کہنا ہے کہ دفاعی نظام نے آنے والے میزائلوں اور ڈرونز کا بروقت مقابلہ کیا۔ تازہ فوجی کشیدگی کے اثرات عالمی منڈیوں پر بھی مرتب ہوئے، جہاں خام تیل کی قیمتوں میں تین فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اس سے قبل امریکی فوج کی مرکزی کمان نے اعلان کیا تھا کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں پر مبینہ حملوں کے جواب میں ایران کے مختلف فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی حکام کے مطابق کارروائی کے دوران میزائل اور ڈرون تنصیبات کے علاوہ پاسدارانِ انقلاب کی ساٹھ سے زائد تیز رفتار کشتیوں کو بھی تباہ کیا گیا۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی حملوں میں خارگ جزیرہ، قشم جزیرہ اور بندر عباس کے ساحلی علاقوں میں دھماکے ہوئے، جن سے بعض تنصیبات کو نقصان پہنچا اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔
ایران کی مسلح افواج کی مرکزی کمان خاتم الانبیاء نے امریکی کارروائی کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا فیصلہ کن اور سخت جواب دیا جائے گا، جبکہ آبنائے ہرمز کے معاملات میں کسی بھی بیرونی مداخلت کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔
ایران کی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اپنے بیان میں کہا کہ دھونس اور دباؤ کی سیاست ناکام ہو چکی ہے اور ایران اپنے مؤقف سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔ انہوں نے امریکا پر جنگ بندی کی خلاف ورزی، ایرانی تیل پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے اور خطے میں کشیدگی بڑھانے کا الزام بھی عائد کیا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ ایران قومی سلامتی اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا اور کسی بھی دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکائے گا۔
دریں اثنا قطر کے ایک گیس بردار بحری جہاز پر ڈرون حملے کے بعد بھی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ قطر نے اس واقعے کا ذمہ دار ایران کو قرار دیا، تاہم تہران نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو ایران کے ساتھ طے شدہ ضابطوں کی پابندی کرنا ہوگی۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو نئے معاہدے کے لیے بار بار دی جانے والی دھمکیوں پر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ جب تک دھمکیوں اور فوجی دباؤ کی پالیسی ختم نہیں ہوتی، کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات کا آغاز ممکن نہیں ہوگا۔