حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
آبنائے ہرمز پر پھر جنگی کشیدگی، امریکا کے ایران پر نئے حملے، تہران کا سخت انتباہ Home / بین الاقوامی /

آبنائے ہرمز پر پھر جنگی کشیدگی، امریکا کے ایران پر نئے حملے، تہران کا سخت انتباہ

ایڈیٹر - 08/07/2026
آبنائے ہرمز پر پھر جنگی کشیدگی، امریکا کے ایران پر نئے حملے، تہران کا سخت انتباہ

امریکا نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر مبینہ حملوں کا الزام عائد کرتے ہوئے ایران کے مختلف فوجی اہداف پر تازہ فضائی کارروائیاں کی ہیں، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر کشیدگی شدت اختیار کر گئی ہے۔ دوسری جانب ایران نے امریکی حملوں کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے دوٹوک انداز میں خبردار کیا ہے کہ اس اقدام کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

امریکی فوج کی مرکزی کمان کے مطابق کارروائی کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں پر مبینہ حملوں کا جواب دینا تھا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے یہ کارروائیاں جنگ بندی کی خلاف ورزی اور بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے سنگین خطرہ تھیں، اسی لیے ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی حکام کے مطابق حملوں میں ایران کے فضائی دفاعی نظام، ریڈار مراکز، ساحلی نگرانی کے نظام، زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل، بحری جہاز شکن میزائل، ڈرون اڈوں اور پاسدارانِ انقلاب کی درجنوں تیز رفتار کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکا کا دعویٰ ہے کہ انہی کشتیوں کو آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو ہراساں کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

امریکی فوج نے مزید کہا کہ اگر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا سلسلہ جاری رہا تو واشنگٹن ہر ممکن جواب دینے کے لیے تیار ہے، تاہم موجودہ مرحلے کی فوجی کارروائی مکمل کر لی گئی ہے۔

دوسری جانب ایران نے امریکی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور کھلی جارحیت قرار دیا۔ ایرانی فوجی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور علاقائی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا اور آبنائے ہرمز کے معاملات میں کسی بیرونی مداخلت کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنوبی ساحلی علاقوں سرک، بندر عباس اور قشم میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ بندر عباس سے آگ اور دھوئیں کے بادل بھی بلند ہوتے دیکھے گئے۔ تاہم ایرانی حکام نے فوری طور پر جانی یا مالی نقصان کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔

ادھر امریکی حملوں کے بعد بحرین میں، جہاں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کا مرکز قائم ہے، احتیاطی تدابیر کے تحت میزائل حملے کے خطرے کے سائرن بجا دیے گئے۔

ایران کی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اپنے بیان میں کہا کہ دباؤ اور دھمکیوں کی سیاست اب مؤثر نہیں رہی، ایران کسی بھی دباؤ کے سامنے جھکنے والا نہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ترکیہ میں نیٹو سربراہی اجلاس میں شریک ہیں، جبکہ تازہ فوجی کارروائیوں کے بعد پورے خطے میں ایک بڑے علاقائی تصادم کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔