پنجاب کے مختلف اضلاع میں مون سون بارشوں نے تباہی مچا دی، جہاں ایک طرف ڈیرہ غازی خان میں کوہِ سلیمان سے آنے والے سیلابی ریلوں نے کئی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، تو دوسری جانب لیاقت پور میں دریائے سندھ اور دریائے چناب کے شدید کٹاؤ نے بستیاں، زرعی اراضی اور فصلوں کو بری طرح متاثر کر دیا۔ ادھر لاہور میں بارش اور ٹھنڈی ہواؤں نے موسم خوشگوار بنا دیا، جبکہ تربیلہ ڈیم میں پانی کی آمد میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ڈیرہ غازی خان میں شدید بارشوں کے بعد کوہِ سلیمان کے پہاڑی علاقوں سے آنے والے برساتی ریلوں نے ندی نالوں میں طغیانی پیدا کر دی، جس کے باعث وسیع زرعی رقبہ زیرِ آب آ گیا۔ مختلف مقامات پر حفاظتی بند ٹوٹنے سے پانی آبادیوں اور کھیتوں میں داخل ہو گیا، جبکہ متعدد دیہات کے زمینی رابطے بھی منقطع ہو گئے۔ سیلابی پانی کے باعث کئی مسافر مختلف مقامات پر پھنس گئے اور آمدورفت شدید متاثر ہوئی۔ متاثرہ شہریوں نے فوری امدادی سرگرمیوں اور حفاظتی بندوں کی تعمیر کا مطالبہ کیا ہے۔
رحیم یار خان کی تحصیل لیاقت پور کے نواحی علاقے موضع بیٹ پرارہ میں دریائے سندھ اور دریائے چناب کے کٹاؤ نے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا۔ مقامی افراد کے مطابق دریا کی تیز لہروں نے متعدد بستیاں، سینکڑوں گھر اور وسیع زرعی رقبہ اپنی لپیٹ میں لے لیا، جبکہ کماد، مونگ، تل اور چارے سمیت مختلف فصلیں بھی دریا برد ہو گئیں۔ متاثرہ خاندان نقل مکانی پر مجبور ہیں اور انہوں نے مستقل حفاظتی بند تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب لاہور کے مختلف علاقوں میں کہیں ہلکی اور کہیں موسلا دھار بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے ساتھ چلنے والی تیز ہواؤں نے گرمی کی شدت میں واضح کمی کر دی۔ شہریوں نے خوشگوار موسم کا استقبال کیا، جبکہ محکمہ موسمیات نے آئندہ بھی مزید بارشوں اور تیز ہواؤں کی پیش گوئی کی ہے۔
ادھر خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور میں حالیہ مون سون بارشوں اور بالائی علاقوں سے آنے والے سیلابی پانی کے باعث تربیلہ ڈیم میں پانی کی سطح اور آمد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ڈیم انتظامیہ کے مطابق پانی کی سطح معمول سے خاصی بلند ہو چکی ہے، جبکہ ڈیم کے تمام سترہ پیداواری یونٹ فعال ہیں اور ہزاروں میگاواٹ بجلی قومی گرڈ میں شامل کی جا رہی ہے۔