وزیراعظم اپنا گھر پروگرام میں بڑی تبدیلی؛ این بی ایف سیز کو شامل کرنے کی منظوری، شہریوں کو 1 کروڑ روپے تک کا آسان قرضہ ملے گا
اسلام آباد:
وفاقی حکومت نے عام اور متوسط طبقے کے شہریوں کو اپنی ذاتی رہائش فراہم کرنے کے عزم کے تحت "وزیراعظم اپنا گھر پروگرام" کے دائرہ کار کو وسیع کرتے ہوئے اس تک رسائی مزید آسان بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی سفارش پر وفاقی حکومت نے نان بینکنگ فنانس کمپنیوں (این بی ایف سیز) کو بھی اس ہاؤسنگ اسکیم کا حصہ بنانے کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے، جس کے بعد متعلقہ آپریٹنگ فریم ورک بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ایسے شہریوں کو مالیاتی دھارے میں لانا ہے جو روایتی بینکنگ نظام تک رسائی نہیں رکھتے۔
ایس ای سی پی کی جانب سے جاری کردہ نئے فریم ورک کے مطابق، نان بینکنگ ہاؤسنگ فنانس اور انویسٹمنٹ فنانس کمپنیاں اب مستحق شہریوں کو گھر کی تعمیر یا خریداری کے لیے ایک کروڑ روپے تک کا ہاؤسنگ قرض فراہم کرنے کی مجاز ہوں گی۔ دوسری جانب، مائیکرو فنانس کمپنیاں پسماندہ طبقات کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے 50 لاکھ روپے تک کا قرض فراہم کر سکیں گی۔ اسکیم کے تحت قرض حاصل کرنے والے صارفین کو پہلے 10 سال تک صرف 5 فیصد سالانہ کی رعایتی شرح منافع پر ہاؤسنگ فنانس دستیاب ہوگا، جس سے ماہانہ اقساط کا بوجھ نمایاں طور پر کم ہو جائے گا۔
ایس ای سی پی کے حکام کا کہنا ہے کہ نان بینکنگ مالیاتی اداروں کا نیٹ ورک ملک کے دور دراز، دیہی اور پسماندہ علاقوں تک پھیلا ہوا ہے، جہاں روایتی تجارتی بینکوں کی شاخیں انتہائی محدود ہیں۔ اس نئے اشتراک کے بعد وہ شہری بھی مستفید ہو سکیں گے جو بینک اکاؤنٹ نہ ہونے یا دیگر کٹھن بینکاری تقاضے پورے نہ کر پانے کے باعث پہلے اس مہم سے محروم رہے تھے۔ نئے فریم ورک کے تحت این بی ایف سیز تجارتی بینکوں کے ساتھ مشترکہ فنڈنگ کے ذریعے قرض کی فراہمی کے عمل کو مزید تیز اور شفاف بنائیں گی۔
واضح رہے کہ وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کا بنیادی مقصد کم اور متوسط آمدنی والے خاندانوں کو آسان شرائط پر 25 لاکھ سے لے کر 1 کروڑ روپے تک کا سرمایہ فراہم کرنا ہے تاکہ وہ زیرِ تعمیر مکانات مکمل کر سکیں یا تیار شدہ گھر خرید سکیں۔ معاشی ماہرین کے مطابق، حکومت کے اس فیصلے سے نہ صرف رہائشی شعبے کا بحران ختم ہوگا بلکہ تعمیراتی صنعت (کنسٹرکشن سیکٹر) میں اربوں روپے کی نئی سرمایہ کاری آئے گی جس سے ملک میں روزگار کے لاکھوں نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
اہم ترین معلومات اور شرائط