جاپان میں تنہائی کا بحران؛ گزشتہ سال 76 ہزار سے زائد افراد گھروں میں اکیلے انتقال کر گئے، سرکاری رپورٹ جاری
ٹوکیو:
صنعتی اور سائنسی ترقی کے عروج پر پہنچے ہوئے ملک جاپان سے ایک انتہائی دل دہلا دینے والی سماجی رپورٹ سامنے آئی ہے۔ جاپان کی نیشنل پولیس ایجنسی (این پی ای) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اور مستند اعداد و شمار کے مطابق، سال 2025 کے دوران ملک بھر میں 76 ہزار 941 افراد اپنے گھروں میں تنہائی کی حالت میں انتقال کر گئے۔ ان اموات کی سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ انتقال کے وقت ان کے پاس کوئی بھی موجود نہیں تھا اور وہ اکیلے ہی زندگی کی بازی ہار گئے۔
نیشنل پولیس ایجنسی کی عبوری رپورٹ کے مطابق، یہ ریکارڈ تعداد گزشتہ سال کے دوران پولیس کی تحویل اور انتظام میں آنے والی مجموعی طور پر 2 لاکھ 4 ہزار 562 لاشوں کا تقریباً ایک تہائی (37 فیصد سے زائد) بنتی ہے۔ سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ جاپان میں بوڑھی ہوتی آبادی، خاندانی نظام کی ٹوٹ پھوٹ اور نوجوان نسل میں اکیلے رہنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے یہ بحران اب سنگین ترین صورتحال اختیار کر چکا ہے جسے مقامی زبان میں 'کوڈو کوشی' یا تنہا موت کہا جاتا ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ان میں سے کئی اموات کے بارے میں پڑوسیوں یا رشتہ داروں کو کئی روز بلکہ ہفتوں بعد معلوم ہوا جب گھروں سے تعفن اٹھنے لگا۔ جاپانی حکومت نے اس سنگین سماجی المیے سے نمٹنے کے لیے ماضی میں 'تنہائی کی وزارت' بھی قائم کی تھی، تاہم تازہ ترین اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اب تک کے اقدامات اس خاندانی اور نفسیاتی بحران کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔ عسکری و سماجی مبصرین اس صورتحال کو جاپان کے مستقبل کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دے رہے ہیں۔